انوارالعلوم (جلد 5) — Page 506
انوار العلوم جلد ۵ ۵۰۶ پڑتی اور میں اس کو مل میں سے آتا۔اس کو چونکہ ایسے علوم کا شوق تھا اس لئے اس قسم کی باتیں سکھائی گئیں۔نبیوں اور ولیوں میں چونکہ دینی علوم کا شوق ہوتا ہے اس لئے انہیں دینی علوم سکھاتے ہیں۔فرشتوں کے علوم سکھانے کا بھی عجیب طریق ہے۔وہ جو بات سکھاتے ہیں اسے OBJECTIVE MIND قلب عامل میں نہیں رکھتے بلکہ SUB CONSCIOUS MIND قلب غیر حال میں رکھتے ہیں۔سینی دماغ کے پچھلے حصہ میں رکھتے ہیں تاکہ سوچ کر انسان اسے نکال سکے۔اس میں ظاہری دماغ سے حفاظت کی زیادہ طاقت ہوتی ہے اور یہ ذخیرہ کے طور پر ہوتا ہے۔ملائکہ جو کچھ سکھاتے ہیں اسی حصہ دماغ میں ڈالتے ہیں۔الاماشاء اللہ۔دماغ کے تین حصے ہوتے ہیں۔ایک وہ حصہ میں کے ذریعہ ہم چیزوں کو دیکھتے اور سمجھتے ہیں۔دوسرا وہ حصہ جو ذخیرہ کے طور پر ہوتا ہے۔اس میں باتیں محفوظ رکھی جاتی ہیں جو یاد کرنے پر یاد آجاتی ہیں اور میرا وہ حصہ جس میں ذخیرہ تو ہوتا ہے مگر یاد کرنے سے بھی اس میں جو کچھ ہو یاد نہیں آتا بلکہ بہت کر دینے سے وہ بات سامنے آتی ہے۔ملائکہ کبھی اس تیرے حصے میں بھی علوم داخل کر جاتے ہیں جب ان کی ضرورت ہو اس وقت ایسے واقعات پیش آجاتے ہیں کہ وہ علوم سامنے آجاتے ہیں۔یوں یاد کرنے سے نہیں آتے۔یہ میرا ذاتی تجربہ ہے میری کوئی ۱۷-۱۸ سال کی عمر ہوگئی۔حضرت مسیح موعود کا زمانہ تھا۔اس وقت میں نے رسالہ تشخیز نکالا تھا۔خواب میں میں نے دیکھا کہ ایک فرشتہ آیا ہے جو مجھے کہتا ہے کیا تمہیں کچھ کھائیں؟ میں نے کہا سکھاؤ۔اس نے کہا سورہ فاتحہ کی تفسیر سکھائیں ؟ میں نے کہا ہاں سکھائیے۔اس رویا کا بھی عجیب نظارہ تھا۔یہ شروع اس طرح ہوئی کہ پہلے مجھے ٹن کی آواز آئی اور پھر وہ پھیلنے لگی اور پھیل کر ایک میدان بن گئی۔اس میں سے مجھے ایک شکل نظر آنے لگی۔جو ہوتے ہوتے صاف ہو گئی۔اور میں نے دیکھا کہ فرشتہ ہے۔اس نے مجھے کہا تمہیں علم سکھاؤں میں نے کہا سکھاؤ۔اس نے کہا لو سورہ فاتحہ کی تفسیر سیکھو۔اس پر اس نے سکھانی شروع کی اور ایاک نعبد پر پہنچ کر کہا کہ سب نے اسی حد تک تفسیریں لکھی ہیں آگے نہیں لکھیں۔میں بھی اس وقت سمجھتا ہوں کہ ایسا ہی ہے۔پھر اس نے کہا نگر میں تمہیں اس سے آگے سکھاتا ہوں۔چنانچہ اس نے ساری سورۃ کی تفسیر سکھائی اور میری آنکھ کھل گئی۔اس وقت مجھے اس کی ایک دو باتیں یاد تھیں جن کی نسبت اتنا یاد ہے کہ نہایت لطیف تھیں۔مگر دوبارہ سونے کے بعد جب میں اُٹھا تو میں وہ بھی بھول گیا تھا۔حضرت خلیفتہ المسیح الاوّل کو جب میں نے یہ رویا سنائی تو آپ بہت ناراض ہوئے کہ کیوں اسی وقت نہ لکھ لی ؟ جو کچھ سکھایا گیا تھا اسے اسی وقت لکھ لینا چاہئے تھا۔اس دن کے بعد آج تک میں سورہ فاتحہ پر کبھی نہیں بولا کہ مجھے اس کے نئے نئے نکات نہ بجھائے