انوارالعلوم (جلد 5) — Page 502
۵۰۲ ہیں کہ وہ نبی کو مان لیتا ہے۔بات اصل میں یہ ہے کہ ملک اس موقع کو تاڑ تا رہتا ہے کہ کب فلاں شخص کے دل میں نیکی آئے۔اور ہر انسان پر ایسا وقت آتا ہے خواہ وہ ابو جیل ہو یا فرعون اور جب نیکی کے آنے کا وقت ہوتا ہے۔تو اس سے ملک فائدہ اُٹھا لیتا اور نبی کی سچائی دل میں ڈال دیتا ہے۔آگے یہ انسان کا کام ہوتا ہے کہ اس سے فائدہ اُٹھائے یا نہ اُٹھائے۔تو ملائکہ کا ایک کام یہ ہے کہ لوگوں کے دلوں میں انبیاء کی تصدیق پیدا کرتے رہتے ہیں۔آٹھواں کام ملائکہ کا یہ ہوتا ہے کہ خدا کی تسبیح کرتے رہتے ہیں۔چنانچہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے:۔وتَرَى الْمَلَئِكَةَ حَاذِيْنَ مِنْ حَوْلِ الْعَرْشِ يُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّهِمُ (الزمر : 4 ) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ملائکہ خدا کی تفصیح اور تحمید کرتے ہیں۔نواں کام ملائکہ کا یہ ہوتا ہے کہ وہ مومنوں کے لئے استغفار کرتے ہیں۔یہ خاص ملائکہ ہوتے ہیں۔ان کا خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ فرض ہوتا ہے کہ مومنوں کے لئے دُعا اور استغفار کرتے رہیں کہ اگر مومن سے کوئی کمزوری صادر ہو جائے تو اس پر خدا تعالیٰ پر دہ ڈال دے۔چنانچہ اللہ تعالے فرماتا ہے :۔الَّذِينَ يَحْمِلُونَ الْعَرْشَ وَمَنْ حَولَهُ يُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَيُؤْمِنُونَ بِهِ وَيَسْتَغْفِرُونَ لِلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَيْءٍ رَحْمَةً وَعِلْمًا فَاغْفِرُ لِلَّذِينَ تَابُوا وَاتَّبَعُوا سَبيكَ وَهِمْ عَذَابَ الْجَحِيمِ ٥ (المؤمن :٨) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خاص الخاص ملائکہ کا یہ کام ہوتا ہے کہ خاص الخاص مؤمنوں کے لئے دعا کرتے رہتے ہیں کہ خدا ان کی کمزوریوں کو معاف کر دے۔اور جو عام فرشتے ہوتے ہیں۔ان کا کام یہ ہوتا ہے کہ سب کے لئے دُعا کرتے ہیں۔عام مومنوں حتی کہ کافروں کے لئے بھی دعا کرتے ہیں۔اور اس طرح مومنوں کو دوہرا فائدہ پہنچتا ہے۔ایک تو خاص فرشتے ان کے لئے دُعا کرتے تھے اور دوسرے عام فرشتے جو سب کے لئے دُعا کرتے ہیں ان میں بھی مومن شامل ہوتے ہیں۔سب کے لئے دُعا کرنے کے متعلق خدا تعالیٰ فرماتا ہے :- وَالمَلَيْكَةُ يُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَيَسْتَغْفِرُونَ لِمَنْ فِي الْأَرْضِ (الشورى :) یعنی خدا کی رحمانیت کے فرشتے سب کے لئے دعا کرتے رہتے ہیں کہ خدا سب کو معاف کر دے۔میرا خیال ہے کہ خدا تعالیٰ نے دوزخ کو خالی کرنے کی یہ بیل رکھی ہے خدا تعالیٰ فرشتوں کی دُعا کے نتیجہ میں آخر کہے گا کہ جاؤ میں سب کو چھوڑتا ہوں۔