انوارالعلوم (جلد 5) — Page 496
النوار العلوم جلد ۵ ۴۹۶ پاس جانے کے لئے روانہ ہوا تاکہ اس کے پاس تو بہ کرے مگر راستے میں ہی مر گیا۔اس پر جنت والے فرشتوں نے کہا کہ ہم اسے جنت میں لے جائیں گے کہ یہ توبہ کی نیت کر چکا تھا اور دوزخ والے فرشتوں نے کہا ہم اسے دوزخ میں لے جائیں گے کہ یہ تو بہ کرنے سے پہلے مر گیا۔(مسلم کتاب التوبة باب قبول توبة القاتل وان كثر قتله ) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ملائکہ میں ارادہ ہوتا ہے۔پھر اس آیت سے بھی پتہ لگتا ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے : مَا عَانَ لِي مِنْ عِلْمٍ بِالْمَلِكِ الأَعْلَى إِذْ يَخْتَصِمُونَ ٥ (ص : ) مجھے کیا معلوم تھا اس بحث کا حال جب فرشتے آپس میں بحث کر رہے تھے۔اس سے معلوم ہوا کہ وہ ایک دوسرے سے بحث بھی کر لیتے ہیں پس ان میں ارادہ پایا جاتا ہے مگر نہایت محدود بارہویں باتے ملائکہ کے متعلق یہ معلوم ہوتی ہے کہ وہ عالم الغیب نہیں ہیں۔کیونکہ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :- وَيَوْمَ يَحْشُرُهُمْ جَمِيعًا ثُمَّ يَقُولُ لِلْمَلَئِكَةِ اهَؤُلَاءِ إِيَّاكُمْ كَانُوا يَعْبُدُونَ قَالُوا سُبُحْنَكَ أَنتَ وَلِتُنَا مِنْ دُونِهِمْ بَلْ كَانُوا يَعْبُدُون الجن اكثرهم بِهِمْ مُؤْمِنُونَ ه (سبا: ۴۱-۴۲) اور جس دن کہ اللہ ان سب کو اکٹھا کرے گا۔پھر ملائکہ سے کسے گا کہ کیا یہ لوگ تمہاری عبادت کیا کرتے تھے۔وہ کہیں گے تو پاک ہے ان سے ہمارا کیا واسطہ ہے۔ہمارا دوست تو تو ہے۔یہ لوگ تو جنوں کی عبادت کرتے تھے۔اور ان میں سے اکثر ان پر ایمان لاتے تھے۔اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ فرشتوں کو علم غیب نہیں کیونکہ اگرانہیں علم غیب ہوتا تو وہ عبادت سے لاعلمی ظاہر نہ کرتے۔یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اللہ تعالیٰ نے یونسی سوال کیا تھا۔کیونکہ ایسے موقع میں بلا وجہ سوال بھی ایک قسم کا جھوٹ بن جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی ذات پاک ہے۔ہے۔دوم پچھلی کتب سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض لوگ فرشتوں کی عبادت کے بھی قائل تھے۔پس معلوم ہوتا ہے کہ بعض فرشتے بوجہ عدم علم کے اس امر سے انکار کر دیں گے کہ بعض انسان ان کی عبادت کرتے تھے بعض حدیثوں سے بھی یہ بات وضاحت کے ساتھ ظاہر ہو جاتی ہے کہ فرشتے عالم الغیب نہیں ہوتے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔ایک شخص مؤمن کہلاتا مومنوں والے کام کرتا ہے۔اس کے کاتب فرشتے جب اس کے عمل سے کر خدا تعالیٰ کے حضور میں پیش کرنے کے لئے لے جاتے ہیں۔مثلاً وہ نماز پڑھتا ہے اور وہ اس عمل کو اس کے حضور میں