انوارالعلوم (جلد 5) — Page 470
انوار العلوم جلد ۵ ۴۷۰ اصلاح نفس کہ جب انکے چپڑے جل جائیں گے تو ہم انہیں نئے چڑے پہنا دیں گے تاکہ وہ عذاب کو محسوس کر سکیں۔<<^ پھر ایسا بھی ہوتا ہے کہ مجرم چاہتا ہے مزا دے لو مگر راضی ہو جاؤ۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے : ولا يALLOWAL اللهُ وَلَا يَنظُرُ هِمْ يَومَ الْقِيمَةِ وَلَا يُزَكِّيهِمْ (ال عمران : ان کو عذاب بھی ملے گا دُکھ بھی پہنچے گا اور خدا ان سے بات بھی نہیں کرے گا اور اس سے بڑھ کر یہ کہ ان کی طرف نظر بھی اُٹھا کر نہیں دیکھے گا۔غرض جس قدر عذاب ہو سکتے ہیں۔وہ بیان کئے گئے ہیں۔اب میں تم سے پوچھتا ہوں کہ جو چیز تم اپنے نفس میں پاتے ہو اس پر غور کرو اور دیکھو کہ آیا وہ اس قابل ہے کہ اگر نہ ہو تواس نے عذابوں میں مبتلا کئے جاؤ۔اگر وہ چیز تمہارے پاس نہیں جس کے نہ ہونے پر اس قدر عذاب دیئے جائیں اور جس کے ہونے پر اس قدر انعام کئے جائیں تو سوچو کہ تم ہرگز ایمان کے اس مقام پر نہیں پہنچے جیں کا نام قرآن کریم میں ایمان رکھا گیا ہے۔بہت بڑی تبدیلی پیدا کرو ان سب باتوں کو بیان کرنے کے بعد میں تو یہی کہوں گا کہ ایک بہت بڑی تبدیلی کی ضرورت ہے اور اپنے نفس پر موت وارد کرنے کی حاجت ہے۔تم اپنے نفسوں پر موت وارد کر کے دیکھو تو سہی کہ تمہیں کیا ملتا ہے ؟ اور تم سے کہا جاتا ہے کہ تم انعام کے وعدوں اور مذاب کی وعیدوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے اندر تبدیلی کرو اور تھوڑی تھوڑی بات پر ٹھو کر نہ کھایا کرو۔میں نے دیکھا ہے کہ کئی لوگ معمولی معمولی باتوں پر ٹھوکر کھا جاتے ہیں۔تھوڑا ہی عرصہ ہوا ایک جگہ سے دریافت کیا گیا کہ ہم کس کو ووٹ دیں ؟ شہر والوں کو لکھا گیا کہ مشورہ کر کے لکھیں کہ کون آدمی مناسب ہے ؟ ان کے جواب کی بناء پر ایک شخص کے متعلق سفارش کر دی گئی۔مگر گاؤں کے لوگوں نے جن کے ووٹ تھے اس معاملہ کو دوبارہ پیش کیا اور کہا کہ یہ شخص مناسب نہیں اس پر ان کو اجازت دے دی گئی کہ جس کو چاہیں ووٹ دیں۔اس پر ایک شخص کا خط آیا کہ اس وجہ سے سیکرٹری کو ابتلاء آ گیا کہ کیوں حکم بدلا گیا ہے ؟ میں نے کہا اس پر ابتلاء کوئی نہیں آیا کیونکہ ابتلاء تو وہ ہوتا ہے کہ جس پر نازل ہو وہ کہے کہ نہیں آیا۔مثلاً جس کے رشتہ داروں کو خدا نے مار دیا وہ خوش ہو اور کسے کہ خدا کی راہ میں مارے گئے ہیں غم کی کونسی وجہ ہے ؟ اس کے متعلق کہیں گے