انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 469 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 469

انوار العطا ۴۶۹ اصلاح نفس اسی طرح کافر کے متعلق کہتا ہے کہ وہ ہر چیز چھوڑنے کے لئے تیار ہو جائے گا۔چنانچہ فرماتا ہے :- يَوَدَّ الْمُجْرِمُ لَوْ يَفْتَدِى مِنْ عَذَابِ يَوْمَئِذٍ بِنِيْلِهِ، وَصَاحِبَتِهِ وَأَخِيهِ وَفَصِيلَتِهِ الَّتِى تُنْوِيهِ ، وَمَنْ فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا ثَمَّ يُنْجِيْهِ كَلَّا إِنَّهَا عَلَى (المعارج : ۱۲ تا ۱۶) : مجرم چاہے گا کہ بیٹا ہوں، بھائی سارا کنبہ اور ساری چیزیں جو کچھ زمین میں ہوں دے کر میں اس عذاب سے مخلصی پاؤں لیکن اسے نہیں چھوڑا جائے گا۔پھر مومن کے لئے یہ تھا کہ فرشتے تکریم کے لئے آئیں گے۔کافر کے متعلق فرماتا ہے۔إِنَّ المُجْرِمِينَ فِي ضَلِ وَسُعُرِه يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِي النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ ذُوقُوا مَسَ سَفَرَه (القمر: ۲۸-۴۹) که مجرم جب مارا جائے گا تو جان نکلتے ہی اس کو کوڑے پڑنے شروع ہو جائیں گے اور ذلت کی یہی حالت نہ رہے گی بلکہ اور زیادہ ہوگی جس طرح مردہ بھیڑ کی لاش کو پھینک دیا جاتا ہے۔اسی طرح ان کو لاتوں سے پکڑ کر مونوں کے بل گھسیٹ کر آگ میں پھینک دیا جائے گا۔کبھی ایسا ہوتا ہے کہ سزا میں آرام کے لئے وقفہ مل جاتا ہے لیکن کافروں کے لئے ایسا نہیں ہوگا ادھر مومنوں کے لئے تو یہ فرمایا تھا کہ ان کا انعام بڑھتا ہی جائے گا۔ادھر کافروں کے متعلق فرماتا ہے کہ جب وہ عذاب سے نکلنا چاہیں گے تو پکڑ کر پھر اس میں ڈال دیا جائے گا۔چنانچہ فرماتا ہے۔كُلَّمَا أَرَادُوا أَنْ تَخْرُجُوا مِنْهَا مِنْ غَدٍ أَعِيدُوا فِيهَا وَ ذُوقُوا عَذَابَ الْحَرِيقِه الج : ۲۳)۔جب کبھی کافر ارادہ کریں گے کہ عذاب سے نکلیں ان کو لوٹا کر اس میں ڈال دیا جائے گا کہ اس جلانے والے عذاب کا مزا چکھو۔یہاں رومانی اور جسمانی دونوں مذابوں کا ذکر ہے کہ ان کے جسم تو آگ میں جلتے ہوں گے مگر ان کے دلوں میں بھی آگ لگی ہو گی۔پھر جب عادت ہو جائے گی تو سزا کی تکلیف اتنی محسوس نہیں ہوتی جتنی ابتداء میں ہوتی ہے۔چنانچہ وہ لوگ جو جیل میں زیادہ عرصہ رہتے ہیں انہیں جب نکالا جاتا ہے تو کہتے ہیں ہمارا ٹوٹا وغیرہ سنبھال رکھنا ہم پھر آ کر لیں گے۔کافروں کے متعلق فرمایا۔ان کو عادی نہیں ہونے دیا جائے گا۔بلکہ كلَّمَا نَضِجَتْ جُلُودُهُمْ بَدَّلَتْهُمْ جُلُودًا غَيْرَهَا لِيَذُوقُوا الْعَذَابَ (الشاء : ٥٤) ۵۷)