انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 459 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 459

انوار العلوم جلد ۵ ۴۵۹ اصلاح نفس ناظر تالیف و اشاعت بتایا کرے گا کہ فلاں جماعت نے اتنے احمدی بنائے اور فلاں نے اتنے۔اگر یہ باتیں جو میں نے آپ لوگوں کو بتائی ہیں مان لو تو یقیناً یاد رکھو کہ خدا تعالیٰ کے وہ وعدے جو اس نے اپنے مومن بندوں کے متعلق کئے ہیں وہ پورے ہو جائیں گے۔اللہ تعالیٰ کے تو وہ وعدے بھی جو معمولی بندوں کے متعلق ہوتے ہیں پورے ہوتے ہیں پھر اگر کوئی شخص پورا مومن بن جائے تو کس طرح ممکن ہے کہ وہ وعدے جو مومنوں کے متعلق ہیں پورے نہ ہوں۔میں نے حضرت صاحب کا لکھا ہوا ایک نوٹ دیکھا تھا اور اسے چھپوا دیا ہے۔اس میں آپ لکھتے ہیں کہ لوگ کہتے ہیں کہ تو خدا کو چھوڑ دے مگر میں کس طرح چھوڑ سکتا ہوں ؟ جب کہ سب سونے ہوتے ہیں خدا مجھے آکر جگاتا ہے اور کہتا ہے کہ میں تم سے محبت کرتا ہوں۔تمہیں کسی سے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔بتاؤ ایسے خدا کو میں کس طرح چھوڑ سکتا ہوں۔تو خدا اپنے بندوں سے بڑی محبت کرنے والا ہے۔مسیح موعود تو بہت بڑا درجہ رکھتے تھے میں اپنا ایک واقعہ بیان کرتا ہوں جس کو یاد کر کے مجھے عجیب لذت آتی ہے۔کچھ دن ہوئے ایک ایسی بات پیش آئی کہ جس کا کوئی علاج میری سمجھ میں نہ آتا تھا۔اس وقت میں نے کہا کہ ہر ایک چیز کا علاج خدا تعالیٰ ہی ہے اسی سے اس کا علاج پوچھنا چاہئے۔اس وقت میں نے دُعا کی اور وہ ایسی حالت تھی کہ میں نفل پڑھ کر زمین پر ہی لیٹ گیا۔اور جیسے بچہ ماں باپ سے ناز کرتا ہے اسی طرح میں نے کہا۔اسے خدا ! میں چارپائی پر نہیں زمین پر ہی سوؤں گا۔اس وقت مجھے یہ بھی خیال آیا کہ حضرت خلیفہ اول نے مجھے کہا ہوا ہے کہ تمہارا معدہ خراب ہے اور زمین پر سونے سے معدہ اور زیادہ خراب ہو جائے گا۔لیکن میں نے کہا۔آج تو ئیں زمین پر ہی سوؤں گا۔یہ بات ہر ایک انسان نہیں کہ سکتا بلکہ خاص ہی حالت ہوتی ہے۔یہ کوئی چھ سات ہی دن کی بات ہے جب میں زمین پر سو گیا تو دیکھا کہ خدا کی نصرت اور مدد کی صفت جوش میں آئی اور متمثل ہو کر عورت کی شکل میں زمین پر اتری۔ایک عورت تھی اس کو اس نے سوئی دی اور کہا اسے مار اور کہو جا کہ چارپائی پر سو۔میں نے اس عورت سے سوئی چھین لی۔اس پر اس نے (خدا تعالیٰ کی اس مجسم صفت نے سوئی خود پکڑ لی اور مجھے مارنے لگی۔اور میں نے کہا لو مار لو مگر جب اس نے مارنے کے لئے ہاتھ اُٹھایا تو زور سے سوئی گھٹنے تک لا کر چھوڑ دیا اور کہا۔دیکھ محمود ! نہیں تجھے مارتی نہیں۔پھر کہا جا اُٹھ کر سو ر ہو یا نماز پڑھ۔میں اسی وقت کو دکر چار پائی پر چلا گیا اور جاکر