انوارالعلوم (جلد 5) — Page 450
اصلاح نفس وقت میں اس طرح دُعا کرتا ہوں کہ اقول ان کے لئے جو اس مجلس میں بیٹھے ہوں پھر ان کو ساتھ ملا کر جو قادیان میں رہتے ہیں پھر ساری جماعت کے لئے اس میں پھر قادیان والے آجاتے ہیں۔اس کے علاوہ ایک روحانی اثر ہوتا ہے جو سامنے آنے والے لوگوں پر پڑتا ہے۔اس کو ہر ایک نہیں سمجھ سکتا۔مگر یہ تو عام بات ہے کہ جب ڈاکٹر بیمار کے پاس آتا ہے تو بیمار کے چہرہ پر بشاشت پیدا ہو جاتی ہے۔اس کی کیا وجہ ہے ؟ یہی کہ ڈاکٹر کا اثر اس پر پڑتا ہے۔اسی طرح دعا کے علاوہ قلب کا ایک اثر ہوتا ہے اور اس کے ذریعہ بہت سی اصلاح ہو جاتی ہے اور اس اثر کو وہی حاصل کر سکتا ہے جو مجلس میں آکر بیٹھے۔اور جو مجلس میں نہیں آتا اس پر یہ اثر نہیں ہو سکتا۔میں نے دیکھا ہے کہ حضرت صاحب کے زمانہ میں بعض ایسے لوگ تھے جو قادیان میں رہتے تھے مگر آپ کی مجلس میں نہ آتے تھے پھر انہیں کو ابتلاء آیا۔تو جو شخص مجلس میں نہیں آتا وہ خواہ زبان سے کچھ بھی نہ بولے دل ہی دل کے ذریعہ اثرات میں سے حصہ لے لیتا ہے پانچواں فائدہ یہ ہے کہ خود قادیان برکات کا موجب ہے اور بعض مقام ایسے ہوتے ہیں جن کا برکات سے خاص تعلق ہوتا ہے۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مکہ اور مدینہ کی نمازوں کا اور جگہ کی نمازیں مقابلہ نہیں کر سکتیں۔تو مقام سے بھی برکات حاصل ہوتی ہیں اور ہمیشہ ہوتی ہیں۔دیکھیو نکہ کے لوگ اب گندے ہو گئے ہیں مگر مکہ تو خراب نہیں ہو گیا۔پیغامیوں میں سے بعض لوگ کہتے ہیں کہ قادیان جاکر کیا لینا ہے ؟ مگر وہ نہیں سمجھتے کہ انسان کی برکتوں سے علیحدہ مقام کی بھی برکتیں ہوتی ہیں جو شخص برکت والے انسان سے تعلق رکھتا ہے وہ برکت والے مقام پر جاکر دوہری برکتیں حاصل کرتا ہے اور جو صرف مقام سے تعلق رکھتا ہے وہ ایک طرح کی برکتیں حاصل کرتا ہے اب اگر فرض بھی کرلیا جائے کہ نعوذ باللہ قادیان میں کوئی انسان برکت والا نہیں رہ گیا تو بھی قادیان تو برکتوں سے خالی نہیں ہو سکتا۔گندہ انسان اپنا گند اپنے ساتھ لے جاسکتا ہے کہ یہاں کی برکتیں بھی لے جاسکتا ہے۔یہ پانچواں فائدہ ہے قادیان آنے کا۔یہاں کی نماز، یہاں کا روزہ ، یہاں کی عبادت ، یہاں کا درس باہر کے مقابلہ میں بہت بڑا درجہ رکھتے ہیں۔یہاں ہی وہ مسجد اقصیٰ ہے جس کی نسبت رسول کریم پانچواں فائدہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس میں نماز پڑھنے کی بہت بڑی فضیلت ہے۔پھر یہاں ہی مسجد ہے جس میں خدا کا میخ اُترا۔پھر یہاں ہی وہ مسجد ہے جہاں راتوں رات رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور اس تاریخی کے زمانہ میں آکر اُتر ہے۔اس اندھیری رات میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر سے نکلے اور اس جگہ آگئے۔پس ان برکتوں کی وجہ سے بھی یہ مقام بہت بڑی فضیلت