انوارالعلوم (جلد 5) — Page 19
انوا را اعلوم جلد الله 19 قیام توحید کیلئے غیرت مزدور ایک معقول رقم نہ لے اس کا کیسے گزارہ ہو سکتا ہے۔اس بات کو مد نظر رکھ کر دیکھو۔یہ ہمارے تیں ہزار جن کا پچاس ہزار بنتا ہے ، اس سے جو عمارت بنے گی وہ وہاں کے لحاظ سے ایک نہایت چھوٹی سی مسجد ہوگی۔اگر یہاں اس لاگت کی مسجد بنائی جائے تو موجودہ حالت میں یقیناً اسراف ہوگا مگر ولایت میں اسراف نہیں پیس چونکہ وہاں مسجد بنے گی ، اس لئے وہاں کے متعلق ہی اندازہ ہوگا۔اس مسجد (مسجد اقصی کے برابر کی مسجد اگر یہاں بنائیں تو سات آٹھ ہزار روپیہ میں بن سکتی ہے لیکن اگر اتنی بڑی مسجد وہاں بنائیں تو ڈیڑھ دو لاکھ میں تیار ہوسکتی ہے۔یہ مسجد جس کیلئے چندہ جمع کیا جا رہا ہے تین چار مرلے کی ہوگی اور چھوٹا سا صحن ہوگا۔اس میں معمولی گزارہ کے لائق عمارت ہوگی اور نیز یہ مسجد لندن میں نہیں ہوگی بلکہ لندن سے کسی قدر فاصلہ پر ہوگی۔علاوہ انہیں جب مسجد بن جائیگی تو وہ اپنا مکان ہو گا جس کو مسجد نہ ہونے کے نقصان روز برتنے کی ضرورت نہ پڑیگی اور مکان بدلنے کا وہاں بڑا اثر پڑتا ہے۔تین برس چودھری صاحب وہاں رہے، ان کو ہمیشہ مکان بدلنے پڑتے تھے جس کا اثر ان کی تبلیغ پر بہت پڑا۔مکان تبدیل کرنے کے متعلق یہ نہ خیال کرو جیسے یہاں تشھید کے دفتر یک چلے گئے۔بلکہ لندن ایک سو میل لمبا شہر ہے ایسا سمجھو جیسا یہاں سے گجرات۔اب لندن میں مکان بدلنے کے یہ معنے ہیں کہ جیسے یہاں سے ایک مولوی گجرات چلا جائے۔یا گجرات والوں کو کہا جائے کہ مت گھبراؤ مولوی تمہارے پاس ہیں۔یعنی قادیان میں ہیں۔جس طرح قادیان میں مولوی ہونے سے گجرات والوں کو تسلی نہیں، اسی طرح لندن کی حالت ہے۔ایک جگہ اگر ایک شخص رہتا ہے تو وہاں لوگوں پر اثر پڑا ہے اور پھر وہ جگہ چھوڑ دینی پڑی تو دوسری جگہ جانے سے اس جگہ کے لوگوں پر سے تمام اثر زائل ہوگیا۔پھر مکان اپنا نہ ہونے کے باعث متعصب لوگوں سے بہت نقصان پہنچتا ہے۔مثلاً ایک جگہ چودھری صاحب رہتے تھے ، جنگ شروع تھی، ایک نو مسلم شخص جس کا نام جرمن زبان میں تھا آیا۔صاحب مکان نے کہا کہ یا تو اس کو نکالو با میرا مکان خالی کر دو۔چودھری صاحب نے کہا کہ میں کیسے ایک شخص کو روک سکتا ہوں جبکہ میں آیا زی اس غرض سے ہوں کہ لوگوں کو بلاؤں اور تبلیغ کروں۔غرض ایک تو مکان بدلنے سے وہ دلچسپی لوگوں میں پیدا نہیں ہو سکتی یا قائم نہیں رہ سکتی جو پیدا ہو گئی ہو۔دوسرے متعصب آدمی چھوٹی چھوٹی باتوں پیر مکان خالی کرانے پر آمادہ ہو جاتے ہیں اور وہ لوگ سوسو میل کا چکر کاٹ کر جیسے یہاں سے گجرات یا گوجرانوالہ یا فیروز پور، نہ روز ملنے کے لئے مبلغ کے پاس آسکتے ہیں نہ مبلغ ان کے پاس جا سکتا د چوہدری فتح محمد صاحب سیال