انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 308 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 308

انوار العلوم جلد ۵ ٣٠٨ اسلام اور حریت و مساوات اور کوئی نہیں کہ سکتا کہ نسلی امتیاز چونکہ منع ہے۔اس لئے یہ حکم بھی نا جائز ہے کیونکہ اللہ تعالی کا یہ فیضان اس لئے حضرت ابراہیم کی نسل کے لئے خاص نہیں کیا گیا کہ وہ کسی خاص قوم میں - تھے بلکہ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کی نیکی کو دیکھ کران کے ساتھ ایک دائمی عہد باندھ دیا تھا جس میں دوسروں کا کوئی نقصان نہ تھا اور حضرت ابراہیم کی عزت افزائی تھی۔دوسروں کا نقصان اس لئے نہیں کہ ان کے لئے بھی ترقی کے تمام دروازے کھلے ہیں۔اور ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ اس فیضان کو یہ خصوصیت حاصل ہے کہ کوئی شخص حضرت ابراہیم کی اولاد میں سے ایک مہر تاباں سے روشنی لئے بغیر بارگاہ الہی تک پہنچ ہی نہیں سکتا۔کیا اسلام نے مالی مساوات قائم کی ہے تیری قسم کی مساوات خواجہ صاحب نے ماتی مالی مساوات بتائی ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ اسلام نے یہ احتیاط کی ہے کہ غرباء کے ترقی کے راستے بند نہ ہو جائیں۔اور کوئی ایسی روک ان کی ترقی کے راستہ میں نہ آجائے جس کے سبب سے وہ آگے بڑھ ہی نہ سکیں۔لیکن یہ استدلال کہ اسلام نے اموال کے جمع کرنے سے منع کیا ہے اور زائد مال کے تقسیم کرنے کا حکم دیا ہے ایک ظلم عظیم ہے اور اسلام کی تعلیم میں ایک خطر ناک تحریف ہے۔یہی وہ عقیدہ ہے جو اسلام میں تفرقہ اور شقاقی ڈالنے کا سب سے پہلا ذریعہ بنایا گیا تھا۔چنانچہ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عثمان کے زمانہ میں مفسدوں نے اسی خیال کو لوگوں میں پھیلا نا شروع کیا تھا کہ صحابہ میں بڑے بڑے مالدار ہیں اور دوسروں کے حقوق مار کر یہ لوگ مالدار ہو گئے ہیں اور اس خیال کو تقویت دینے کے لئے ان لوگوں نے حضرت ابو زر کو اگہ بنایا تھا۔حضرت ابو ذر ایک غریب مزاج آدمی تھے اور زیادہ مال پاس رکھنے کو پسند نہیں کرتے تھے۔مگر وہ دوسروں کو بھی کچھ نہیں کہتے تھے۔ان شریروں نے ان کو جا کر اکسایا کہ دیکھوگ کس طرح مال و دولت جمع کرنے میں لگ گئے ہیں۔اور اس قدر ان کو جوش دلایا کہ وہ سارا دن سونا ہے کر اسی جستجو میں پھرتے رہتے۔جہاں کوئی صحابی مالدار ملا اس کو پکڑ بیٹھتے کہ تمہارے پاس مال کیوں ہے ؟ اور لوگوں کو انہوں نے اس قدر دق کیا کہ آخر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو حکماً ان کو مدینہ بلوا نا پڑا۔اور آخر عمر تک وہ مدینہ کے پاس ایک گاؤں میں مقیم رہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ صحابہ کثرت سے سخاوت کیا کرتے تھے لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ وہ اس بات کا تعہد نہیں کیا کرتے تھے کہ ضرورت سے زیادہ مال کہتا ہے تا اسے اسی وقت غرباء میں تقسیم کر دیں۔بیسئلہ تو عبداللہ بن سباء یہودی کا ایجاد کردہ تھا اور سوائے حضرت ابوذر کے جو اپنی فقیرانہ طبیعت کے سبب سے اس کے اصل مطلب کو نہ عله تاریخ طبری جلد ۵ صفحه ۲۸۵۸ تا ۲۸۶۰ مطبوعہ بیروت ۱۹۶۵ء