انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 307 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 307

۳۰۷ اسلام اور مساوات و حریت اقدس مسیح موعود علیه صلوة والسلام ہی رسول کریم صلی اللہ علیہ سلم کے بعد ایک ایسے شخص ہوئے ہیں جنہوں نے اس مسئلہ پر اس قدر زور دیا ہے جو اس کی عظمت کے مطابق تھا۔اور ہماری جماعت ہی وہ جماعت ہے ہو اس مساوات کو عملی طور پر قائم کرنے کے لئے ہمہ تن کوشاں ہے۔اور ہر گورے اور کالے کو اسلام کی طرف بلا رہی ہے اور اس کی دعوت کر رہی ہے۔پھر ہمیں یہ مساوات یاد دلانی کیا معنی رکھتی ہے ہم سے زیادہ اس مساوات پر کے یقین ہے اور کسی کے دل میں ہم سے زیادہ اس کی قدر ہے۔یہ مساوات تو خواجہ صاحب کو ان صاحب کو یاد دلانی چاہئے تھی جن کی وکالت کے لئے آپ کھڑے ہوئے ہیں کیونکہ وہ اس مساوات کو نہایت حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور مجھ پر طعن کرتے ہیں۔کہ کیا سال بھر میں ایک دو آدمیوں کا اسلام میں شامل کر لینا ہی اشاعت اسلام ہے ؟ اور انکے نزدیک اس اسلام کی امتیازی خصوصیت سے فائدہ اُٹھانا اور اسلام کا ہر گھر کے دروازہ تک پہنچانا کچھ حقیقت ہی نہیں رکھتا جب یک مسٹر گاندھی کی تقلید میں ہندوستان کا امن برباد کرنے اور بچوں کو مادر پدر آزاد بنانے کی کوشش نہ کی جائے۔نسلی امتیاز مشاکر مساوات قائم کرنا دوسری قسم کی مساوات خواجہ صاحب نے نسلی بسیار کا مانا بتائی ہے۔اور اس میں کوئی شک نہیں کہ اسلام نے اس مساوات کو بھی قائم کیا ہے۔مگر ساتھ ہی یہ بھی بات ہے کہ یہ مساوات دوسری عدم مساوات کو باطل نہیں کر سکتی۔مثلاً اگر ایک خاص قوم اپنے علم یا حکومت کی وجہ سے دوسری قوم پر برتری رکھتی ہے تو اس مساوات کی بناء پر اس کی برتری کو رد نہیں کیا جا سکتا۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کی دوسری اقوام پر فضیلت کا بار بار ذکر فرمایا ہے اور یہ فضیلت ان کو اس زمانہ میں اپنی تجربہ کاری اور رسوخ کی وجہ سے کل عرب کی اقوام پر ضرور حاصل تھی اسی لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ خيَارُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خِيَارُهُمْ فِي الْإِسْلَامِ إِذَا فَقُهُو البخاري كتاب المناقب باب یعنی المناقب وقول الله تعالى يايها الناس إنا خلقنكم من ذكر وانثى۔جو لوگ جاہلیت میں معزز سمجھے جاتے تھے اب بھی معزز سمجھے جائیں گے۔اگر دین کے واقف ہو جائیں۔پس نسلی امتیاز کو گو اسلام نے مٹایا ہے مگر یہ اجازت نہیں دی کہ اس دلیل کی بناء پر کسی قوم کے ایسے امتیازات کو بھی مٹا دیا جائے جو اسے کسی اور وجہ سے حاصل ہو چکے ہوں۔مثلاً خود قرآن کریم نے نبوت و کتاب کے فیضان کو آل ابراہیم میں مخصوص کر دیا ہے اور جیسا کہ فرماتا ہے : وجَعَلْنَا فِي ذُرِّيَّتِهِ النبوة و الكتب العنكبوت میں لینی ہم نے اس کی اولاد میں نبوت اور کتاب منفرد کردی۔