انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 252 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 252

انوار العلوم جلد ۵ یہ کہ جزیرہ عرب سے کیا مراد ہے ؟ ۲۵۲ ترک موالات اور احکام اسلام سوال اول کا کیا جزیرہ عرب کو کفار سے خالی رکھنے کیلئے جہاد فرض ہے ؟ جواب تو یہ ہے کہ ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریق عمل کو دیکھتے ہیں کہ یہ ایسا امر نہیں ہے۔درحقیقت یہ ایک سیاسی سوال تھا ورنہ کیا وجہ تھی کہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حیات میں سیمو د کو نہیں نکال دیا۔کیا مذہبی احکام کے پورا کرنے میں بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح دیر کیا کرتے تھے ؟ آپ تو الٹی باتوں کی ایسی غیرت رکھتے تھے کہ ان کے پورا کرنے میں ایک منٹ کی بھی دیر نہ لگاتے تھے۔اگر کہا جاوے کہ پہلے آپ کو خیال نہیں آیا جس وقت آپ کو یہ معلوم ہوا کہ ان کو عرب میں نہیں رہنے دینا چاہئے اس وقت آپ نے اس کا اظہار کر دیا۔مگر سوال یہ ہے کہ اگر واقعی یہ کوئی مذہبی فرض ہوتا تو کیا آپ اسی وقت ایک شکر اس غرض کے لئے نہ بھیج دیتے اور اگر بفرض محال آپ ایسا نہ کر سکے تھے تو کیا حضرت ابو بکرینہ کے زمانہ خلافت میں خود اس خواہش کو پورا نہ کر دیا جاتا ، یہ نہیں کہا جا سکتا کہ حضرت ابو بکر کے پاس طاقت نہ تھی۔مُرتدوں کے فتنہ کے وقت جب لوگوں نے کہا کہ جیش اسامہ کو جسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شام کے لئے تیار کیا ہے روک لیا جاوے تو اپنے نے فرمایا کہ ابو قحافہ کا بٹا رتن ابو بکر کیا حیثیت رکھتا ہے کہ رسول کریم صل اللہ علیہ وسلم کے کم کو منسوخ کرے (البداية والنهاية جلد ۳ مطبوعہ بیروت ) الیسا دلیر آدمی کب گوارا کر سکتا تھا کہ ٧ لاء ایسا زبر دست حکم جس کے پورا کرنے کے لئے جہاد فرض ہو جاتا ہے اور جس کی نسبت کہا جاتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری حکم تھا پورا نہ کیا جائے پھر اگر مُرتدین کے فتنہ کے وقت آپ نے توجہ نہ کی تھی تو ان کے فتنہ کے دور ہونے کے بعد کیوں آپ نے یہود کے نکالنے کی طرف توجہ نہ فرمائی ؟ شام کی سرحد اور ایران کی سرحد پر تو جنگیں ہو رہی تھیں لیکن خود عرب کے اندر الیسا عظیم الشان حکم بے توجہی کی نذر ہو رہا تھا کیا یہ بات کسی صحاب بصیرت کی سمجھ میں نہیں آسکتی ہے ؟ پس اصل بات یہی ہے کہ حجاز کے علاقہ کو چھوڑ کرجس میں کہ مکرمہ اور مدینہ منورہ واقع ہیں اور جس کو خدا اور اس کے رسول نے ایک خاص حیثیت دی ہے باقی عرب کی نسبت جو کچھ رسول کریم صل اللہ علیہ وا نے فرمایا ہے وہ بطور فرض اور واجب کے نہیں فرمایا بلکہ ایک پسندیدہ بات کے طور پر فرمایا ہے۔ہیں جب مسلمانوں میں طاقت ہو اور جب مناسب حالات موجود ہوں ان حالات کے پیدا کرنے کی کوشش