انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 211 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 211

انوار العلوم جلد ۵ ۲۱۱ ترک موالات اور احکام اسلام جماعت ہے اللہ کی۔یاد رکھو کہ خدا کی جماعت ہی کامیاب ہوتی ہے۔(ترجمہ منقول از فتوی ) م يَاَ يُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا عَدُوّى وَعَدُوكُمْ أَوْلِيَاءَ تُلْقُونَ إِلَيْهِمُ بِالمَوَدَّةِ وَقَدْ كَفَرُوا بِمَا جَاءَ كُم مِّنَ الْحَق المتخته: ۲) اے ایمان والو! میرے دشمن اور اپنے دشمن کو رفیق مت بناؤ پیغام بھیجتے ہو تم ان کی طرف دوستی کا حالانکہ وہ منکر ہوئے ہیں اس سچائی سے جو تمہارے پاس بھیجی ہے۔ترجمہ منقول از فتوی ) ان آیات سے استنباط کر کے یہ فیصلہ دیا گیا ہے کہ چونکہ انگریزوں نے مسلمانوں سے جنگ کی اور پھر ان میں سے بعض کو کپڑ کر جلا وطن کر دیا اور بعض علاقوں سے مسلمانوں کی حکومت کو اُٹھا دیا جو وہ بھی اخراج کا حکم رکھتا ہے اور مسلمانوں سے یہ لوگ عداوت رکھتے ہیں اور ان کے دین کو حقیر خیال کرتے ہیں اس لئے ان سے ترک موالات کرنی ضروری ہے۔کون سے کافروں سے ترک موالات کرنی چاہئیے ؟ اس میں کوئی شہ نہیں کہ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفار سے دوستی کرنے سے منع فرمایا ہے اور ان کی مدد کرنی یا ان سے مد و لینی جائز نہیں رکھی مگر ساتھ ہی اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ ہر ایک کافر کی نسبت یہ حکم نہیں ہے کہ اس سے دوستی نہ کی جاوے یا یہ کہ اس کے ساتھ موالات نہ کی جاوے چنانچہ خود مولوی محمود الحسن صاحب دیوبندی نے اپنے فتوی میں اور مولوی کفایت اللہ صاحب دہلوی نے اپنے لیکچر میں بیان کیا ہے کہ ہندوؤں سے موالات جائز ہے حالانکہ یہ دونوں قو میں قرآن کریم کی رو سے کفار میں شامل ہیں میں جب ہندوؤں سے جو گو سیاسی طور پر انگریزوں سے ہمارے زیادہ قریب ہیں کیونکہ ہمارے اہل وطن ہیں لیکن مذہبی طور پر سیجیوں کی نسبت ہم سے دور ہیں کیونکہ مسیحی ان اہل کتاب میں سے ہیں جن کا قرآن کریم نے نام لے کر ذکر کیا ہے اور اہلِ ہنود اگر اہل کتاب میں سے ہیں تو اس طبقہ میں سے ہیں جن کا ذکر قرآن کریم نے نام لے کر نہیں کیا۔اسی طرح مسیحی بہت سے انبیاء کرام علیم السلام کو مانتے ہیں اور صرف ہما رے آنحضرت صلی اللہ علیہ دل کے منکر ہیں حالانکہ ہند و صاحبان بہت سے انبیاء کرام کی نبوت کے منکر ہیں پس مذہبی نقطۂ خیال سے سیمی ہندوؤں کی نسبت ہمارے زیادہ قریب ہیں اور جب کسی مسئلہ پر مذہبی طور پر غور کرنا ہو تو ذہبی نقطۂ خیال ہی کو مد نظر رکھنا ہوگا۔اندریں حالات اگر ہندوؤں یا سکھوں سے سوالات ہوسکتی ہے تو مسیحیوں سے بدرجہ اولی ہوسکتی ہے۔کہا جاتا ہے کہ گو ہنود سیجیوں سے مذہباً زیادہ دور ہوں لیکن ہنود میں وہ بات نہیں پائی جاتی جس کی وجہ سے ترک موالات فرض ہوتی ہے۔پس قرآن کریم کے حکم کے مطابق ان سے موالات کرنا منع نہیں ہے بلکہ