انوارالعلوم (جلد 5) — Page 169
انوار العلوم جلد ۵ 149 ایک غلط بیانی کی تردید بیان کیا اور جن کو لے کر قرآن کریم عرش عظیم سے نازل ہوا۔عذاب تو خشیتہ اللہ پیدا کرنے کے لئے آتے ہیں۔پھر اس قوم کا کیا حال ہو گا جو عذاب الیٰ کے نزول کے وقت بھی بجائے خدا کے آگے جھکنے اور راستی کو اختیار کرنے کے تمسخر اور جھوٹ کی طرف مائل ہوتی ہے اور اسی کو اپنا شعار بناتی ہے کاش ! آپ لوگ سمجھتے کہ انگارے سے بچنے کے لئے آگ میں نہیں کو دتے اور بھیڑیے سے محفوظ ہونے کے لئے شیر کی غار میں نہیں گھتے۔کوئی نہیں جو بارش سے بھاگ کر سمندر میں جا گرتا ہو اور ہوا سے ڈر کر بگولے کو جاپٹتا ہو۔پھر آپ لوگوں کو کیا ہوا کہ دنیا کے مصائب سے تنگ آکران را ہوں پر قدم مارنے لگے جو روحانیت سے دور لے جانے والی اور خدا سے بعید کر دینے والی ہیں۔اگر دنیا۔نے آپ کو دھکا دیا تھا تو کیا آپ کے لئے ایک ہی راہ گھلی نہ تھی کہ آپ خداتعالی کی طرف جھکتے اور اپنے گناہوں کا اقرار کرتے اور اس کے آگے مُردہ کی طرح اپنے آپ کو ڈال دیتے اور ہر ایک گند سے اپنے آپ کو پاک کر دیتے اور جھوٹ اور غریب اور تمسخر اور ایذا رسانی سے ایسے دور ہو جاتے کہ گویا اس سے کبھی کسی کا تعلق ہوا ہی نہیں اور خشیت اللہ کے آثار آپ کے چہروں سے نمایاں ہوتے اور محبت الہی کا نور آپ کی پیشانیوں سے سیکھنے لگتا۔تب خدا کی محبت کا ہاتھ آپ کو کھڑا کر دینے کے لئے آپ کی طرف بڑھتا اور اس کے رحم کی آواز آپ کو خوش آمدید کہنے کے لئے بلند ہوتی اور اس کی رحمت کا سایہ آپ کے او پر چھا جاتا اور پھر اس کی غیرت بھڑکتی اور آپ کے دشمنوں کو خس و خاشاک کی طرح جلا کر راکھ کر دیتی۔اسلام پہلے بھی صداقت کے زور سے بلند ہوا اور اب بھی اسی کے ذریعہ سے ترقی کرے گا۔جھوٹ ٹایا جاوے گا۔خواہ سلم کی زبان پر ہو خواہ کافر کی زبان پر۔باطل کچلا جاوے گا خواہ ایمان کے جبر میں ظاہر ہو یا گھر کے کوٹ میں۔پس جھوٹ کو چھوڑ دو اور حق کو اختیار کرو تا خدا کی نصرت تمہارے ساتھ ہو اور اس کا غضب تمہارے خلاف نہیں بلکہ تمہاری تائید میں بھڑکے۔واخر دَعُونَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ خاکسار مرزا محمود احمد امام جماعت احمدیہ قادیان