انوارالعلوم (جلد 5) — Page 168
انوار العلوم جلد ۵ ۱۶۸ ایک غلط بیانی کی تردید میں یہ گورنمنٹ یا کوئی اور گورنمنٹ مجھے دے ہی کیا سکتی ہے۔مجھے فخر ہے کہ مجھے خدا تعالیٰ نے خدمت اسلام کا موقع دیا ہے اور اس سے بڑھ کر اور کیا عزت ہوسکتی ہے۔کیا اسلام کا خادم اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا غلام ہونے سے بڑھک اور کوئی مقام ہے جس کے حصول کے لئے انسان کوشش کر سکتا ہے ؟ پھر جسے وہ حاصل ہو یا کم سے کم وہ خیال کرتا ہو کہ اسے وہ مقام حاصل ہے دُنیا کی عزتیں اس کی نگاہ میں بچی ہی کیونکر سکتی ہیں۔نادان انسان اپنے پر دوسروں کو قیاس کرتا ہے وہ خیال کرتا ہے کہ جس طرح میرا دل دُنیا کی محبت سے بھر پور ہے اسی طرح ہر ایک شخص اس محبت کے جذبات کا متوالا ہے۔مگر آہ ! اسے کیا معلوم ہے کہ دنیا میں ایسے وجود بھی ہیں جو اس دنیا کو مردار سے زیادہ حقیر خیال کرتے ہیں اور اس کے ساتھ اسی قدر تعلق رکھتے ہیں جس قدر تعلق رکھنے کے لئے شریعت اور احکام اسلام انہیں مجبور کرتے ہیں۔میں آخر میں ان تمام لوگوں سے جو اپنے دل میں اسلام کا درد رکھتے ہیں التجاء کرتا ہوں کہ وہ اسلام کی موجودہ حالت پر غور کریں اور سوچیں کہ کیا یہی ذرائع ہیں جن سے اسلام ترقی کر سکتا ہے۔مانا گو یہ غلط ہے ) کہ میں اور میری جماعت ترکوں کی دشمن ہے۔مانا رنعوذ باللہ من ذالک کہ ہم اپنے فوائد پر اسلام کو قربان کر رہے ہیں لیکن کیا اگر ہم گندے ہیں تو ضروری ہے کہ آپ لوگ بھی گندے ہو جاویں۔کیا اگر ہم جھوٹے ہیں تو آپ لوگوں کو بھی جھوٹ بولنا شروع کر دینا چاہئے۔اگر ہم لوگ قریب کرتے ہیں تو آپ لوگوں کو بھی قریب سے کام لینا چاہیے ؟ کیا اسلام کی ترقی نعوذ باللہ من ذالک بغیر جھوٹ ، اتهام اور فریب کے نہیں ہو سکتی۔اے کاش! آپ لوگ سمجھتے کہ اسلام ان تدبیروں کا محتاج نہیں۔جھوٹ اپنے قیام کے لئے جھوٹ کا محتاج ہوتا ہے۔مگر سچ اپنی ترقی کے لئے سچ کے سہارے کے سوا اور کوئی سہارا نہیں چاہتا۔وہ سچ ہی کیسا جس کی تائید کے لئے جھوٹ بولنا پڑے اور وہ حق ہی کیا ہے جس کی مدد کے لئے باطل کو بلانا پڑے۔کیا وہ بھی خدا کہلا سکتا ہے جو اپنی مدد کے لئے بتوں کو بلا ہے۔اور وہ بھی زندہ کہلانے کا مستحق ہے جو لاشوں کے پیچھے چھپ کر اپنی جان بچادے۔اے کاش ! آپ لوگ محسوس کرتے کہ اسلام خود کرنے والی چیز نہیں گرنے والے مسلمان میں اور ان کے گرنے کی وجہ صرف اسلام کو چھوڑ دیا ہے۔وہ صدق و سداد کا راستہ جسے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قائم کیا تھا جب مسلمانوں نے چھوڑ دیا تب وہ درندوں کا شکار ہوئے اور وحشیوں کے پاؤں کے نیچے روندے گئے۔اب اس مصیبت سے بچنے اور اس دُکھ سے نجات پانے کا ایک ہی ذریعہ ہے کہ پھر وہ ان اخلاق کو اختیار کریں اور ان اصولوں کو محکم پکڑیں جن کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے