انوارالعلوم (جلد 5) — Page 157
انوار العلوم جلد ۵ 144 پڑھوا کر بنا جاتا ہے۔اسی طرح قرآن بھی خط ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے بندوں کے نام آیا ہے، اس کو اپنے رشتہ داروں سے پڑھوا کر سنو اور خاص کر اپنے خاوندوں سے تھوڑا تھوڑا کر کے سنو اور اسے یاد کرو۔وعظ میں قرآن کی آیتیں نہیں سنائی جائیں۔اس وقت میں جو کچھ بیان کر رہا ہوں وہ اگر چہ قرآن ہی کی باتیں ہیں لیکن الفاظ میرے ہیں۔اور خدا تعالیٰ کے لفظوں میں جو بات ہے وہ کسی انسان کے الفاظ میں نہیں پائی جاتی۔میں یہ نہیں کہتا کہ وفظوں میں جو کچھ بنایا جاتا ہے وہ خدا تعالیٰ کے کلام کے خلاف ہوتا ہے مگر پھر بھی وہ انسان کے الفاظ ہوتے ہیں۔تمہیں چاہئے کہ خدا کے کلام کو خدا کے الفاظ میں سنو عربی پڑھو اوراس کے منی سیکھو خواہ کوئی مر ہو پڑھنے سے جی نہ چراؤ۔قادیان میں ایک قاعدہ تیار کیا گیا ہے اس سے قرآن پڑھنے میں بہت مددمل سکتی ہے اس کے ذریعہ قرآن کریم پڑھو خود پڑھنے اور دوسر سے سننے میں بڑا فرق ہے۔سننے میں صرف کان ہی مشغول ہوتے ہیں لیکن خود پڑھنے سے آنکھیں بھی مشغول رہتی ہیں اور اس طرح زیادہ ثواب ہوتا ہے۔تو خدا تعالیٰ کے کلام کو خود پڑھنے کی کوشش کرو اور جب تک خود پڑھنے کی قابلیت پیدا نہ ہو۔اس وقت تک اپنے خاوندوں اور بچوں سے سنو یا اپنے ہمسائیوں سے پڑھو۔دیکھو اگر کوئی بھوکا یا ننگا ہو تو دوسروں سے کھانا اور کیڑا مانگ لیتا ہے اور اس میں شرم نہیں کرتا جب ایسی چیزوں کے لئے شرم نہیں کی جاتی تو خدا تعالی کی باتیں سننے اور پڑھنے میں کیوں شرم کی جائے ؟ خدا کے بعد رسول کریم سے بڑھ کر کس کو درجہ نہ دو پھر میں نہیں یہ نصیحت کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کے رسولوں پر ایمان رکھو سب سے بڑے رسول محمد صلی الہ علیہ وسلم ہیں۔ان سے بڑا درجہ کی رسول کو نہ دو۔ہمارے ملک میں مسلمانوں نے اپنی جہالت سے حضرت علی کو بڑا درجہ دے رکھا ہے۔کہتے ہیں کہ حضرت علی تو آج تک زندہ ہیں اور محمدصلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے ہیں پھر کہتے ہیں حضرت علیستی مرد سے زندہ کیا کرتے تھے مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ ولم نے کوئی مردہ زندہ نہیں کیا۔پھر ان کے نزدیک حضرت عینی تو آسمان پر زندہ بیٹھے ہیں لیکن رسول کریم صلی الہ علیہ وسلم زمین میں دفن ہیں۔حضرت علی کے متعلق اس قسم کی جتنی باتیں کہتے ہیں وہ غلط ہیں کیونکہ سب سے بڑا رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔اگر کوئی رسول مُردوں کو زندہ کرتا تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہوتے لیکن مسلمان نادانی سے اس قسم کی باتیں حضرت عیسی کی طرف منسوب کر کے ان کا درجہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے درجہ سے بڑھاتے ہیں۔تم ہرگز اس طرح نہ کرو اور سب سے بڑا درجہ رسول کریم صلی الہ علیہ وسلم کا مجھو۔ان کے تم پر بہت بڑے