انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 150 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 150

10۔فرائض مستورات وقت تک مومن اور مسلمان نہیں ہو سکتی جب تک خدا تعالیٰ کے احکام کی فرمانبرداری نہ کرے اور جو خدا تعالیٰ کی فرمانبرداری نہیں کرتی اور خدا تعالیٰ کے احکام کو نہیں مانتی وہ عقلمند کہلانے کی مستحق نہیں بلکہ وہ پاگل اور سودائی ہے۔دیکھو جب ایک بادشاہ لکھتا ہے کہ میں بادشاہ ہوں تو لوگ اس بات کو تسلیم کرلیتے ہیں لیکن اگر کوئی بادشاہ نہ ہو اور کہے کہ میں بادشاہ ہوں تو اسے پاگل کہا جا سکتا ہے۔اس کی وجہ کیا ہے ؟ میں کہ جو بادشاہ ہوتا ہے اس کے پاس کئی فوجیں اور بادشاہت کا سازوسامان ہوتا ہے مگر گلیوں میں دھکے کھانے والا ننگا انسان چونکہ بادشاہت کی علامت نہیں رکھتا اس لئے اسے پاگل کہا جاتا ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ عقلمند جو بات کہتا ہے اس کا اس کے پاس ثبوت ہوتا ہے لیکن سودائی جو کچھ کہتا ہے اس کا اس کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہوتا۔پس جو شخص یہ کہتا ہے یا جو عورت یہ کہتی ہے کہ میں مومن مسلمان ہوں لیکن وہ خدا تعالیٰ کے احکام کو نہیں مانتی ، خدا تعالیٰ کی فرمانبرداری نہیں کرتی اس میں اور پاگل میں کیا فرق ہے ؟ کچھ نہیں۔ایسا مرد یا ایسی عورت تو ایک پاگل کے بادشاہ ہونے سے بھی بڑا دعوی کرتی ہے جس کا اس کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہوتا اس لئے وہ پاگل سے بھی گئی گزری ہے۔لیں دوسری نصیحت میں تم کو یہ کرنا چاہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کے احکام پر عمل کرد، اس کی اطاعت کرو ، اس کے حکموں کو مان لو۔اگر تم ایسا کرو گی تب مؤمن اور مسلمان کہلا سکو گی ورنہ تمہارا یہ دعوی ایک پاگل اور سودائی کے دعوی سے بڑھ کر کوئی حقیقت نہیں رکھے گا۔خدا تعالیٰ کا بندہ وہی ہے جو خدا تعالیٰ کے احکام پر چلے اب میں تمہیں اسلام کا خلاصہ بتاتا ہوں - اسلام کا خلاصہ دو باتیں ہیں ایک یہ کہ بندے کے متعلق خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَمَا خَلَقْتُ الجن وَالإِنسَ إِلا لِيَعْبُدُونِ الذُریت : ٥٧) کہ میں نے جن اور انسان کو نہیں پیدا کیا مگر اس لئے کہ میرے بندے بن جائیں۔یعنی اپنے پیچھے غلام بنانے کے لئے خدا تعالیٰ نے انسانوں کو پیدا کیا ہے۔اب اکثر لوگ کہتے ہیں کہ ہم خدا کے بندے ہیں مگر اصل بات یہ ہے کہ بہت تھوڑے لوگ ہوتے ہیں جن میں بندگی کی علامتیں پائی جاتی ہیں۔اگر صرف خدا تعالیٰ کے پیدا کر دینے سے ہی انسان اس کے بندے بن جاتے تو پھر خدا تعالیٰ کو یہ کہنے کی ضرورت ہی کیا تھی کہ میں نے ان کو بندہ بنانے کے لئے پیدا کیا ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ بندہ بننے کے کچھ اور معنی ہیں اور وہ یہی ہیں کہ ایک غلام اپنے آقا کے سامنے کیا کرتا ہے یہی کہ ہاتھ باندھ کر اس کے احکام ماننے کے لئے کھڑا رہتا ہے۔اسی طرح