انوارالعلوم (جلد 5) — Page 149
انوار العلوم جلد ۵ ۱۴۹ فرائض مستورات کو نصیحتیں کی تھیں۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عورتیں اسی وعظ کو پسند کرتی ہیں جس میں ان کو اچھا کہا جائے ان کی تعریف کی جائے اور اگر ان کو نصیحت کی جائے تو اس کو پسند نہیں کرتیں حالانکہ کسی کے اچھا کہہ دینے سے وہ اچھی نہیں ہو جاتیں جب تک خود اچھی نہ بنیں اور کسی کے بڑا کہ دینے سے بری نہیں ہو جاتیں۔اگر ان کو اچھا کہا جاتا ہے اور وہ واقع میں اچھی ہیں تو یہ خوشی کی بات ہے اور اگر ان کی کوئی برائی بیان کی جاتی ہے اور وہ برائی ان میں پائی جاتی ہے تو انہیں اس کی اصلاح کرنی چاہئے اور عبرت پکڑنی چاہئے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جب کوئی شخص مرتا ہے اور عورتیں بہین کرتی ہوئی کہتی ہیں اسے بھائی تو ایسا بہادر تھا کہ تیرے سامنے شیر بھی نہیں ٹھہر سکتا تھا تو فرشتے اسے گرز مار کر پوچھتے ہیں کیا تو ایسا ہی تھا ؟ وہ کہتا ہے نہیں۔فرشتے پوچھتے ہیں پھر کیوں تیرے متعلق کہا جاتا ہے ؟ اسی طرح عورتیں جو اور جھوٹی تعریفیں کر کے روتی ہیں ان کے متعلق پوچھا جاتا ہے اور مرنے والے کو اقرار کرنا پڑتا ہے کہ یہ باتیں مجھ میں نہیں پائی جاتی تھیں تو جھوٹی تعریف سے کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا اور نہ جھوٹی مذمت سے کوئی نقصان ہوتا ہے۔اس لئے دیکھنا یہ چاہئے کہ جو کچھ بیان کیا جاتا ہے اس میں میرے عمل کرنے کے لئے کوئی بات ہے یا نہیں۔اگر کوئی اچھی بات ہو تو اس پر عمل کرنا چاہئے اور اگر کوئی بُری بات اپنے اندر نظر آئے تو اسے چھوڑ دینا چاہئے۔یہ غرض ہوتی ہے وعظ کی۔اس نصیحت کے بعد میں مختصر طور پر چند باتیں بیان کرتا ہوں کیونکہ وقت بہت تھوڑا ہے اور دس بجے کے قریب جو گاڑی یہاں سے جاتی ہے اس پر میں جانے والا ہوں۔اسلام کی غرض پہلے میں یہ بیان کرتا ہوں کہ اسلام کی عرض کیا ہے ؟ اسلام کے معنی ہیں فرمانبرداری اور ایمان کے معنی ہیں " مان لینا۔جتنے مسلمان کہلانے والے ہے۔مرد اور عورتیں ہیں ان سے اگر پوچھا جائے کہ تم کون ہو تو وہ کہتی ہیں۔اللہ کے فضل سے ہم مسلمان ہیں ایمان دار ہیں۔لیکن انہیں یہ نہیں معلوم ہوتا کہ مسلمان اور ایمان دار کے کیا معنی ہیں۔وہ ہی سمجھتی ہیں کہ ہمارے ماں باپ مسلمان کہلاتے ہیں اس لئے ہم بھی مسلمان ہیں۔حالانکہ کوئی مرد مسلمان ہونے کا ثبوت خدا تعالیٰ کے احکام پر عمل کرنے سے ہے على ترمذی ابواب الجنائز باب ماجاء في كراهية البكاء على الميت اور عورت اس