انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xvi of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page xvi

انوار العلوم جلد ۵ گھر بار اور وطن چھوڑ کر افغانستان کی طرف ہجرت کرنے لگے۔ان حالات میں حضرت مصلح موعود نے ترک موالات اور احکام اسلام" نامی یہ کتاب تصنیف فرمائی اور ان خیالات کو جو حضور معاہدہ ترکیہ اور سلمانوں کا آئندہ رویہ" میں پیش فرما چکے تھے قرآن و احادیث نبویہ کی روشنی میں بڑی شرح وبسط کے ساتھ ایک بار پھر اس کتاب میں پیش فرمایا۔حضور کی یہ تصنیف دسمبر نہ ہی میں شائع ہوئی تھی۔(تاریخ احمدیت جلدہ صفحہ ۲۶۷ تا ۲۰) حضور نے اپنی اس تصنیف کی وجہ تالیف" التماس ضروری" کے عنوان سے کتاب کے آخر میں ان الفاظ میں پیش فرمائی ہے۔" میں نے یہ رسالہ محض ہمدردی احباب کو مد نظر رکھ کر لکھا ہے اور امید کرتا ہوں کہ اس کے ذریعہ ہر ایک وہ شخص جو قرآن کریم اور ارشادات نبوی کا شیدائی ہے ترک موالات کے مسئلہ کے متعلق صحیح راہے قائم کرنے کے قابل ہو جائے گا " حضور نے اپنی اس لاجواب تصنیف میں ترک موالات کے معانی اور ترک موالات کے بارے میں مسلمان علماء کی طرف سے دیے گئے فتووں میں پیش کردہ آیات کے حقیقی مفہوم کو تفصیل کے ساتھ پیش فرمایا ہے اور ترک موالات کی تائید میں دیئے جانے والے دلائل کا پُر زور انداز میں رد فرمایا ہے۔حضور نے قرآن کریم کی رو سے ترک موالات کے چار نقصانات اور ترک موالات کے متعلق قرآن کریم کے دو بنیادی احکام بیان کرتے ہوئے اپنا یہ نقطۂ نظر پیش فرمایا ہے کہ ترک موالات کی کوئی صورت بھی اس زمانہ میں جائز نہیں اور اس وقت بالخصوص حکومت کے خلاف اس کا وجوب تو الگ رہا اُس کے جواز کا فتویٰ دینا بھی علم اور تعدی ہے۔