انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xv of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page xv

انوار العلوم جلد ۵ لوح الهدی ہ کے موسم گرما میں حضور دھرم سالہ تشریف لے گئے وہاں قیام کے دوران آپ نے احمدی نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے ایک نظم بعنوان " لوح الهدی ارشاد فرمائی۔۳۲ اشعار پر مشتمل نظم نہایت موثر اور بیش قیمت نصالح اور زریں ہدایات سے پر ہے۔اس نظم کا پہلا شعر یہ ہے۔نونهالان جماعت مجھے کچھ کہنا ہے پر ہے یہ شرط کہ ضائع میرا پیغام نہ ہو 16 اس نظم کی یہ خصوصیت ہے کہ حضور نے اس نظم کا پس منظر بھی اپنے قلم سے ہی تحریر فرمایا ہے اور کم و بیش ہر شعر کی وضاحت و تشریح نثر میں خود بیان فرمائی ہے۔حضور فرماتے ہیں :۔ہر قوم کی زندگی اس کے نوجوانوں سے وابستہ ہے کس قدر ہی محنت سے کوئی کام چلایا جائے اگر آگے اس کے جاری رکھنے والے لوگ نہ ہوں تو سب محنت غارت جاتی ہے اور اس کام کا انجام ناکامی ہوتا ہے۔۔ہم پر واجب ہے کہ آپ لوگوں کو ان فرائض پر آگاہ کر دیں جو آپ پر عائد ہونے والے ہیں اور ان راہوں سے واقف کردیں جن پر چل کر آپ منزل مقصود پر پہنچ سکتے ہیں اور آپ پر فرض ہے کہ آپ گوش ہوش سے ہماری باتوں کو نہیں۔تا خدا تعالیٰ کی طرف سے جو امانت ہم لوگوں کے سپرد ہوئی ہے اس کے کما حقہ ادا کرنے کی توفیق ہمیں بھی اور آپ لوگوں کو بھی ملے۔✿✿✿ ترک موالات اور احکام سلام 19 میں ترکی کی دولت عثمانیہ کے خاتمہ کے بعد ہندوستان کے مسلمانوں نے ترک موالات کا نعرہ بلند کیا۔حضرت مصلح موعود نے اپنے مضمون " معاہدہ ترکیہ اور مسلمانوں کا آئندہ رویہ میں مسلمانوں کو اس تحریک ترک موالات کے نقصانات سے بر وقت آگاہ فرما دیا تھا۔مگر افسوس کہ اس وقت کے مسلمانوں نے اس پر خلوص آواز پر توجہ نہ دی اور کانگریسی لیڈر مسٹر گاندھی کی قیادت میں تیکم اگست منہ سے برطانوی حکومت کے خلاف عدم تعاون کا منظم پروگرام شروع کر کے ملک میں ایسی آگ لگا دی کہ جس سے ملک کا کوئی صوبہ اور کوئی ضلع محفوظ نہ رہا مسلمان اپنا