انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 103 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 103

انوار العلوم جلد ۵ ١٠٣ تقریر سیالکوٹ تقریر سیالکوٹ ) جو حضرت فضل عمر خلیفہ مسیح ثانی نے اپریل ۱۹۲۰ء کو مقام سیالکوٹ ایک پبلک مطلب میں فرائی اشْهَدُ أَن لَّا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ اما بعد فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّجِيمِ بسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ إيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ اهدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَة صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْة وَلَا الضَّالِّينَ۔(الفاتحة زمانہ بعثت نبوی کی تاریکی رسول کریم صلی اللہ علیہ سلم جن کی طرف تمام مسلمان کہلانے والے لوگ خواہ وہ کسی فرقہ سے تعلق رکھتے ہوں اپنے آپ کو منسوب کرتے ہیں وہ آج سے تیرہ سو سال پہلے ایک ایسے زمانہ میں مبعوث ہوئے تھے کہ اس زمانہ کی نسبت آپ کے دوست و دشمن سب اقرار کرتے ہیں کہ اس سے بڑھ کر تا ریک زمانہ تاریخ میں نہیں پایا جاتا۔وہ زمانہ تاریکی اور جہالت، بے دینی اور خدا تعالیٰ سے دُوری کے لحاظ سے تمام گذشتہ زمانوں سے بڑھا ہوا تھا۔ہر مذہب اور ہر ملت میں ایسا اختلال اور کمزوری واقع ہوگئی تھی کہ علاوہ اس بات کے کہ کون سا مذہب سچا ہے اور کون سا جھوٹا۔اخلاقی طور پر ہر ایک مذہب کے مدعی ایسے گر گئے تھے