انوارالعلوم (جلد 4) — Page 620
انوار العلوم جلد ۶۲۰ تقدیرانی مصنفوں نے عقل سے کام لیا اور رسول کریم ﷺ کے واقعات کو دیکھا مان لیا کہ آپ نے ایسے استقلال سے کام کیا کہ کوئی جھوٹا انسان اس طرح نہیں کر سکتا۔تو اس لئے بھی ابتلاء آتے ہیں کہ خوبی کا دشمنوں تک کو بھی اعتراف کرنا پڑے۔پس ایمان کی ترقی اور مضبوطی کے لئے ابتلاء آتے ہیں اور بار بار آتے ہیں تا خوب مشق ہو جائے۔دیکھو ایک لوہار جب لوہے پر ہتھوڑا مارتا ہے تو جو چیز وہ بنانا چاہتا ہے وہ بنتی جاتی ہے۔لیکن کوئی اور شخص جسے ہتھوڑا چلانا نہیں آتا وہ ہتھو ڑا مارے گا کہیں اور پڑے گا کہیں اور ایک دفعہ جب کہ میں ابھی بچہ ہی تھا اور مکان بن رہا تھا۔میں نے سمجھا تیشہ سے لکڑی گھڑنا آسان بات ہے اور یہ سمجھ کر لکڑی پر تیشہ مارا لیکن اپنا ہاتھ کاٹ لیا۔تو جس کام کی انسان کو مشق نہ ہو اسے نہیں کر سکتا۔فوجی سپاہیوں کو کئی کئی میل دوڑایا جاتا ہے۔لیکن اس لئے نہیں کہ انہیں دکھ دیا جائے بلکہ اس لئے کہ انہیں دوڑنے کی مشق ہو اور وہ مضبوط ہوں تاکہ اگر کبھی دوڑنے کا موقع پڑے تو وہ دوڑ سکیں۔تو خدا تعالیٰ انسان کے اخلاق کو اعلیٰ اور پختہ بنانے کے لئے مشق کرانے کی غرض سے ابتلاؤں میں ڈالتا ہے۔مثلاً جب کوئی گالیاں دے تو اس پر صبر کرنا اور آگے سے گالیاں نہ دینا ایک صفت ہے۔لیکن یہ صفت کس طرح پیدا ہو سکتی ہے ؟ اس طرح کہ کوئی کسی کو گالی دے اور وہ اس پر صبر کرنا سیکھے ورنہ اگر ایسا نہ ہو تو اس صفت کے اظہار کا موقع ہی نہ آئے۔اور اگر کبھی موقع آئے تو اس پر پوری طرح انسان کار بند نہ ہو سکے۔پس اخلاق کی پختگی کے لئے ابتلاؤں کا آنا اور ان کے آنے کے وقت صبرو رضا کی عادت ڈالنا ایمان کی تکمیل کے لئے ضروری ہے۔کوئی کہہ سکتا ہے کہ جس سے گالیاں دلائی جائیں گی اس پر جبر ہو گا اور وہ جبر کے ماتحت گالیاں دے گا۔مگر یہ ٹھیک نہیں ہے کیونکہ گالیاں کسی نیک اور بزرگ انسان سے نہیں دلائی جاتیں نہ کسی بد آدمی کو گالیاں دینے پر مجبور کیا جاتا ہے۔صرف یہ کیا جاتا ہے کہ نیک آدمی کے متعلق ایسے حالات پیدا کر دیئے جاتے ہیں کہ اس کا اور ایک درشت آدمی کا اجتماع ہو جاتا ہے۔آگے وہ شخص جس طرح اوروں سے خود معاملہ کرتا ہے اس سے بھی کرتا ہے اس میں کسی قسم کا جبر نہیں ہوتا۔تیسرا مرتبہ تقدیر پر ایمان لانے کا بہت اعلیٰ ہے اور وہ تو کل ہے۔توکل کے معنی درجہ سوم اپنے آپ کو سپرد کر دینے کے ہیں۔تو کل کی دو قسمیں ہیں۔ایک تو کل ایسا ہے