انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 619 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 619

انوار العلوم جلد ۴ ۶۱۹ تقدیر الهی پکارنے لگی کہ اے ملک الموت میں مہتی نہیں ہوں۔میں تو ایک غریب محنت کش بڑھیا ہوں اور اپنی لڑکی کی طرف اشارہ کر کے کہا۔یہ مہتی لیٹی ہوئی ہے اس کی جان نکال لے۔یہ عورت خیال کرتی تھی کہ اسے اپنی لڑکی سے محبت ہے۔لیکن جب اس نے سمجھا کہ جان نکالنے والا آیا تو کھل گیا کہ اسے محبت نہ تھی کہ وہ اس کے بدلے جان دے دے۔یہ تو ایک حکایت ہے لیکن یہ بات کثرت سے پائی جاتی ہے کہ انسان بسا اوقات اپنے خیالات کا بھی اچھی طرح اندازہ نہیں کر سکتا اور جب اس پر ابتلاء آتے ہیں تب اسے معلوم ہوتا ہے کہ اس کا کسی چیز سے محبت یا نفرت کا دعوی کہاں تک صادق تھا۔اسی طرح ابتلاء میں اس لئے ڈالا جاتا ہے کہ تا لوگوں کو معلوم ہو جائے کہ فلاں کا ایمان کیسا ہے ورنہ یوں دوسروں کو کیا معلوم ہو سکتا ہے کہ فلاں کا ایمان پختہ ہے یا نہیں۔اسی لئے رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ کوئی انسان جتنا بڑا ہو اس پر اتنے ہی بڑے ابتلاء آتے ہیں اور سب سے زیادہ ابتلاء نبیوں کو آتے ہیں (ترمذی ابواب الزهد باب في الصبر على البلاء) جیسا کہ حضرت صاحب نے اپنے متعلق فرمایا ہے۔۔صد حسین است در گریبانم کربلائیست سیر ہر آنم لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ آپ نے حضرت امام حسین کی ہتک کی ہے لیکن نادان نہیں جانتے کہ حضرت صاحب نے اپنے ابتلاؤں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ امام حسین تو ایک بار مارے گئے لیکن مجھے دشمن ہر وقت مارنے کے درپے رہتے اور ایذا ئیں دیتے ہیں اور میں ہر وقت کربلا کا نظارہ دیکھتا رہتا ہوں۔سولی پر ایک دفعہ چڑھ کر مرنا اتنی بڑی بات نہیں جتنی کہ ہر وقت ابتلاؤں میں پڑے رہنا۔عیسائی کہتے ہیں کہ یسوع مسیح چونکہ سولی پر چڑھ کر مرگئے اس لئے ان کو خدا کا بیٹا مان لو۔ہم کہتے ہیں پھر جو ہر وقت سولی چڑھائے جاتے ہیں ان کو کیا ماننا چاہیے ؟ سب انبیاء کی یہی حالت ہوتی ہے اور جب ایسا ہوتا ہے تو لوگ دیکھ لیتے ہیں اور ان پر ثابت ہو جاتا ہے کہ ان کا بہت ہی پختہ ایمان ہے۔کہتے ہیں اَلْاِسْتَقَامَةٌ فَوْقَ الْكَرَامَةِ - اور سب سے بڑی کرامت یہ ہے کہ دشمن بھی خوبی کو مان لے اور اس کا انکار نہ کر سکے۔اب دیکھو دشمنوں نے رسول کریم پر بڑے بڑے اعتراض کئے ہیں لیکن وہ یہ لکھنے پر بھی مجبور ہو گئے ہیں کہ اور تو جو کچھ تھا مگر محمد ( الله ) نے اپنے کام کو ایسے طرز اور استقلال سے چلایا کہ جب تک پورا پورا یقین نہ ہو کوئی اس طرح چلا نہیں سکتا اور وہ قطعاً جھوٹا نہ تھا۔تو جن یورپین