انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 611 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 611

།། تقدیر الهی فرمایا جو شخص کسی کو کہتا ہے کہ لے۔اور جب وہ لینے کے لئے ہاتھ بڑھاتا ہے تو کچھ نہیں دیتا۔کیا اس کے اس فعل سے معلوم نہیں ہو تاکہ اس سے نہی کی جارہی ہے یا اس کی آزمائش ہو رہی ہے۔اسی طرح تم سے یہ استہزاء کیا جا رہا ہے جو تمہارے گناہوں کی وجہ سے ہے۔تم بہت تو بہ کرو۔غرض الهام چونکہ وہم اور وسوسہ اور مرض اور شیطانی القاء کا بھی نتیجہ ہوتا ہے۔اس لئے خالی الہام پر شبہ کیا جا سکتا ہے کہ شیطانی نہ ہو یا مرض نہ ہو لیکن جب اس کے ساتھ قدرت ہوتی ہے تو معلوم ہو جاتا ہے کہ کسی زبردست ہستی کی طرف سے ہے۔پس یہ دونوں باتیں ہیں کہ الہام ہی خدا تعالیٰ کے متعلق یقین کے مرتبہ پر پہنچاتا ہے اور اظہار تقدیر ہی "خدا ہے" کے مرتبہ تک پہنچاتا ہے۔اور اگر تقدیر نہ ہوتی تو خدا تعالیٰ پر ایمان بھی نہ ہوتا۔دنیا کو دیکھ کر کہا جاسکتا تھا کہ یونہی بن گئی ہے۔مگر جب خدا کی طاقت اور قدرت کو انسان دیکھتا ہے تو اسے معلوم ہو جاتا ہے کہ خدا ہے۔چنانچہ حضرت صاحب فرماتے ہیں۔قدرت سے اپنی ذات کا دیتا ہے حق ثبوت اس بے نشان کی چہرہ نمائی یہی تو ہے اس میں حضرت صاحب نے بتایا ہے کہ خدا تعالٰی قدرت سے اپنی چہرہ نمائی کرتا ہے اور اس وقت تک خدائی ثابت نہیں ہوتی جب تک وہ قدرت نمائی نہ کرے۔وہ لوگ جو قدرت دیکھنے والے نہیں ہوتے وہ یوں کہہ دیتے ہیں کہ خدا کو کس نے پیدا کیا جو اس کو مانیں لیکن جب اس کی قدرت دیکھ لیتے ہیں تو ان پر ثابت ہو جاتا ہے کہ خدا ہے۔پس اگر تقدیر نہ ہو تو خداتعالی پر بھی ایمان نہیں رہتا اور اگر ایمان خدا پر کسی طرح حاصل بھی ہو جائے تو تقدیر کے بغیر محبت اور اخلاص نہیں پیدا ہو سکتا مثلا بادشاہ کی ذات ہے۔کسی کا دل نہیں چاہتا کہ اس کی طرف چٹھی لکھے کیونکہ اس سے ذاتی تعلق نہیں ہو تا۔لیکن جن لوگوں سے ذاتی تعلق ہو تا ہے ان کی طرف خط لکھنے کا خیال بار بار پیدا ہوتا ہے۔اسی طرح عام بات کا اور مزا ہوتا ہے اور اگر وہ بات اپنی ذات سے تعلق رکھتی ہو تو اور ہی مزا ہوتا ہے۔اگر بادشاہ کا عام اعلان ہو تو اس سے کوئی خاص لطف نہیں اٹھایا جاتا۔لیکن اگر خاص کسی کے نام بادشاہ کی ہو تو اسے اپنے لئے بڑا فخر سمجھتا ہے۔تو خدا تعالیٰ سے محبت اور اخلاص ہونے کے لئے ضروری ہے کہ اس سے انسان کا ذاتی طور پر تعلق ہو اور وہ تعلق تقدیر کے ذریعہ قائم ہو سکتا