انوارالعلوم (جلد 4) — Page 577
انوار العلوم جلد ۴ سا التمر تقدیر الهی ہے۔رسول کریم و پر جب عرب کے لوگوں نے اجتماع کر کے وہ حملہ کیا جو غزوہ احزاب کہلاتا ہے تو اس سے پہلے یہود سے آپ کا معاہدہ ہو چکا تھا کہ اگر کوئی دشمن مدینہ پر حملہ کرے گا تو یہود اور مسلمان مل کر اس کا مقابلہ کریں گے۔اس موقع پر ان کا فرض تھا کہ مدد کرتے لیکن انہوں نے اس کے برخلاف آپ کے دشمنوں سے یہ منصوبہ گانٹھا کہ باہر مردوں پر تم حملہ کرو اور شہر میں ہم ان کی عورتوں اور بچوں کو مار ڈالیں گے۔جب رسول کریم اے لڑنے کے لئے گئے تو کفار نہ لڑے۔واپس آکر آپ نے یہود سے پوچھا کہ بتاؤ اب تمہاری کیا سزا ہونی چاہئے۔ان کو محمد ال جیسا رحیم کریم انسان سزا دیتا تو وہی دیتا جو لَا تَثْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْم کے ذریعہ اس نے مکہ والوں کو دی تھی۔یعنی معاف کر دیتا۔مگر انہوں نے کہا ہم تیری بات نہیں مانیں گے۔یہ بات معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے ہی ان کے مونہہ سے جاری کرائی کیونکہ ان کو سالہا سال کا تجربہ تھا کہ آنحضرت ا اپنے دشمنوں سے نہایت نرمی کا برتاؤ کرتے ہیں۔جب ان لوگوں سے دریافت کیا گیا کہ تم کس کی بات مانو گے تو انہوں نے حضرت سعد کا نام لیا۔جب سعد سے دریافت کیا گیا کہ ان کو کیا سزا دی جاوے تو انہوں نے کہا کہ ان کے جتنے تلوار اٹھانے والے جوان ہیں سب قتل کئے جاویں۔چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔(بخاری کتاب المغازی باب جب ان لا اله الا ان یہود کی زبان پر کیوں یہ تقدیر جاری کی گئی ؟ اس لئے کہ محمد ا کی زبان پر ان کے رحم اور ان کے مقام کی وجہ سے یہ تقدیر جاری نہیں کی جا سکتی تھی۔اس کے جاری ہونے کا یہ مطلب ہو تا کہ آپ کا دل سخت ہو جاتا۔مگر کافروں کی زبان پر جاری ہو سکتی تھی کیونکہ ان کے دل پہلے ہی سخت تھے۔پس یہ تقدیر انہی کے منہ سے اس طرح جاری کرائی کہ ہم تیری بات نہیں مانتے بلکہ فلاں کی بات مانتے ہیں۔لیکن یہ یاد رہے کہ یہ دونوں تقدیریں جو اعمال پر یا زبان پر جاری ہوتی ہیں یہ شرعی اعمال میں نہیں ہوتیں۔کیونکہ قیامت کے دن شرعی اعمال کی پُرسش ہوگی۔یہی وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے جبراً حضرت عمرؓ سے نمازیں نہیں پڑھوائیں۔اگر جبرا کیا تو یہ کیا کہ زبان پر جاری کرا دیا کہ ساریہ پہاڑ پر چڑھ جاؤ۔اسی طرح خدا نے یہود کے متعلق یہ نہیں کیا کہ جبرا ان کو نماز سے روک دیتا یا محمد رسول اللہ پر ایمان نہ لانے دیتا۔بلکہ صرف ایک سیاسی معاملہ میں جزائے عمل کے متعلق تقدیر نازل کی۔تو یہ تقدیر شرعی اعمال پر جاری نہیں ہوتی بلکہ ان اعمال میں ہوتی ہے جن میں کوئی بھی عمل ہو اس سے انسان شرعی سزا کا مستحق نہیں ہوتا کیونکہ اگر شرعی اعمال پر تقدیر جاری عه زاد المعاد لابن قيم جدا صفحه ۴۲۴ الله م الاحزان