انوارالعلوم (جلد 4) — Page 576
انوار العلوم جلدم ۵۷۶ تقدیرانی پس تقدیر کبھی اعضاء پر جاری کی جاتی ہے اور جس طرح بعض لوگ خیال کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ جبر سے کام کراتا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ جبر سے انسان سے کام لیتا ہے۔جس میں انسان کا کچھ دخل نہیں ہو تا بلکہ وہ محض ایک ہتھیار کی طرح ہوتا ہے یا مردہ کی طرح ہوتا ہے جس میں خود ہلنے کی طاقت نہیں ہوتی۔وہ زندہ کے اختیار میں ہوتا ہے وہ جس طرح چاہے اس سے کرے۔چنانچہ حضرت عمر کا یہ واقعہ ایسی ہی تقدیر کے ماتحت تھا اور ان کا کچھ دخل نہ تھا ورنہ ان کی کیا طاقت تھی کہ اس قدر دور اپنی آواز پہنچا سکتے۔رسول کریم ﷺ کی ذات تو تمام قسم کے معجزات کی جامع ہے۔آپ کی زندگی میں بھی اس قسم کی تقدیر کی بہترین مثالیں پائی جاتی ہیں۔آپ ایک دفعہ ایک جنگ سے واپس آرہے تھے۔راستہ میں ایک جنگل میں دوپہر کے وقت آرام کرنے کے لئے ٹھر گئے۔تمام صحابہ ادھر ادھر بکھر کر سو گئے۔کیونکہ کسی قسم کا خطرہ نہ تھا۔آپ بھی اکیلے ایک جگہ لیٹ گئے کہ یکدم کی آنکھ کھلی اور آپ نے دیکھا کہ ایک اعرابی کے ہاتھ میں آپ کی تلوار ہے اور وہ کے سامنے تلوار کھینچے کھڑا ہے۔جب آپ کی آنکھ کھلی تو اس نے دریافت کیا کہ بتا اب تجھے کون بچا سکتا ہے؟ آپ نے کہا خدا۔آپ کا یہ کہنا تھا کہ اعرابی کے ہاتھ سے تلوار گر گئی۔(مسلم کتاب الفضائل باب تو كله على الله تعالى وعصمة الله تعالى من الناس، اس وقت اگر ساری دنیا بھی کوشش کرتی کہ اس کے ہاتھ سے تلوار نہ کرے تو کچھ نہ کر سکتی تھی۔کیونکہ انسان کو وہاں تک پہنچنے میں دیر لگتی سوائے خدا تعالیٰ کے اور کوئی کچھ نہ کر سکتا تھا۔ایسے خاص اوقات میں اللہ تعالیٰ کے خاص بندوں کے لئے خاص تقدیر جاری ہوتی ہے۔اس اعرابی کے لئے جس کا دماغ صحیح تھا اور جو ارادہ رکھتا تھا کہ رسول کریم اسی کو مارے خدا تعالیٰ کی یہ تقدیر نازل ہوئی کہ اس کا ہاتھ نہ ہے اور وہ نہ ہلا۔یہ ایک تقدیر تھی جو ایک خاص وقت ایک خاص شخص کے ایک عضو پر جاری ہوئی۔لیکن کیا ایسی تقدیروں کے ہوتے ہوئے کوئی شخص کہہ سکتا ہے کہ انسان مجبور ہے؟ یہ تقدیریں ہیں۔لیکن باوجود ان کے انسان مجبور نہیں ہے بلکہ قابل مؤاخذه ہے۔کیونکہ یہ تقدیریں ہمیشہ جاری نہیں ہوتیں بلکہ خاص حالتوں میں جاری ہوتی ہیں۔اور ایسی کوئی تقدیر جاری نہیں کی جاتی جس کے سبب سے انسان مجبور قرار پا سکے۔اور عقاب و ثواب کے دائرہ سے نکل جاوے۔ایک و دو سری مثال اس قسم کی تقدیر کی آنحضرت ل اللہ ﷺ کے زمانہ میں ہمیں اور بھی ملتی