انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 500 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 500

العلوم جلد ۴ ۵۰۰ خطاب جلسہ سالانہ ۲۷ دسمبر ۱۹۱۹ء کہلاتا ہے۔اس نکتہ کے نہ سمجھنے کی وجہ سے لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ اگر خدا جنت میں ہے تو معلوم ہوا کہ وہ ایک محدود ہستی ہے اور اس کو مکان کی ضرورت ہے حالانکہ یہ بات نہیں ہے۔ہم جو دنیا میں کعبہ کو بیت اللہ کہتے ہیں تو اس لئے نہیں کہتے کہ خدا اس میں رہتا ہے۔بلکہ اس لئے کہتے ہیں کہ اس جگہ سے خدا کی تجلی ظاہر ہوتی ہے۔اس لحاظ سے جنت بیت اللہ یعنی خدا کا گھر کہلاتا ہے اور اس میں کوئی داخل نہیں ہو سکتا سوائے اس کے جو عبد اللہ بن جائے اور یہی جنت میں داخل ہونے کا طبعی طریق ہے۔پس جنت کے حصول کے لئے ضروری ہے کہ انسان خدا کا بندہ بن جائے۔مگر یہ جنت وہ نہیں جس کا نقشہ آج کل کے مسلمانوں کے نزدیک جنت کا نقشہ آج کل کے مسلمانوں نے اپنے ذہنوں میں کھینچا ہوا ہے اور جو مولویوں کی طرف سے پیش کیا جاتا ہے۔ایک دفعہ ہم ندوہ کے جلسہ پر گئے جو مسلمانوں کا بڑا ند ہی تعلیم کا مرکز مانا جاتا ہے۔اس میں ایک مولوی صاحب کا وعظ نماز کی خوبیوں پر تھا۔مولوی صاحب نے کھڑے ہو کر کہا نماز پڑھنے کا بڑا فائدہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے کہا ہے جو نماز پڑھے گا اسے جنت ملے گی۔اور جنت کیا ہے ؟ یہ کہہ کر اس نے جنت کا نقشہ اس طرح کھینچنا شروع کیا کہ اس میں بڑی خوبصورت اور حسین عورتیں ہوں گی۔یہ ہو گا وہ ہو گا۔اس کا وعظ سن کر میں نے کہا۔سرسید نے کسی ایسے ہی مولوی کا جنت کے متعلق وعظ سن کر کہا ہو گا یہ جنت جو آج کل کے مسلمان پیش کرتے ہیں چکلہ ہے۔ان مولوی صاحب نے ایسے شرم ناک طور پر عورت اور مرد کے مخصوص تعلقات کو بیان کرنا شروع کیا کہ غیر احمدی خود شرمندہ ہو ہو کر اپنے مونہوں پر رومال رکھنے لگے۔اور کہتے اچھا ہوا یہ لیکچر رات کو ہوا۔اور کوئی غیر مذہب کا آدمی اس میں شامل نہیں ہے کی ورنہ بڑی ذلت ہوتی۔خدا تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لئے جو جنت مقدر کی ہے وہ جنت ایسی ہے جہاں اس ہستی سے ملاقات ہو سکتی ہے کہ اس کے لئے جتنی زیادہ آنکھیں کھلیں اتنا ہی زیادہ لطف اور سرور آتا ہے۔اور اس سے ایک منٹ کی جدائی موت سے بد تر معلوم ہوتی ہے۔مگر اس مقصد تک کوئی انسان اس وقت تک پہنچ نہیں سکتا جب تک کہ اللہ تعالیٰ کا عبد نہ ہو۔وہ