انوارالعلوم (جلد 4) — Page 499
انوار العلوم جلدم ۴۹۹ خطاب جلسہ سالانہ ۲۷ دسمبر ۱۹۱۹ء چنانچہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ دوزخ پر ایک ایسا وقت آئے گا جب کہ باد صبا اس کے دروازے کھٹکھٹائے گی۔(مسند احمد بن حنبل جلد ۲ صفحہ (۱۰۲) لیکن جنت ہمیشہ رہنے والی چیز ہے۔اور اس میں رہنے والوں کی یہ صفات بتائی گئی ہیں کہ نہ وہ کبھی ننگے ہوں گے نہ بھوکے۔نہ ان پر کبھی موت آئے گی اور نہ انہیں کوئی تکلیف پہنچے گی اور یہ خدا تعالیٰ کی صفات ہیں۔پس جنت الوہیت کا جلوہ گاہ ہے۔اور حادث انسان کا حقیقی مقام نہیں ہو سکتا۔وید اور بائبل میں آیا ہے کہ خدا جنت میں رہتا ہے یا وہاں سیر کے لئے جاتا ہے۔اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ خدا تعالی کو مکان کی ضرورت ہے اور وہ جنت کے مقام میں رہتا ہے۔بلکہ یہ ہے کہ جنت چونکہ ہمیشہ رہنے والا مقام ہے۔اس لئے الوہیت سے اس کو خاص تعلق ہے اور اس لحاظ سے کہہ سکتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کا گھر ہے۔اب جب کہ خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ مؤمن کے لئے جنت مقرر کی گئی ہے۔اور جنت کی میں جانے کے لئے الوہیت کا مظہر ہونا ضروری ہے تو کہا جاسکتا ہے۔کہ پھر انسان اس میں کس طرح جا سکتا ہے؟ اس کا طریق وہی ہے جو ایک ایسے محل میں جانے کا ہے جس کا مالک کوئی بادشاہ ہو۔دیکھو ایک بادشاہ کے محل میں خدمت گار تو بآسانی آتے جاتے ہیں۔لیکن کوئی رئیس اور راجہ بھی نہیں جا سکتا جب تک کہ اجازت نہ حاصل کر لے۔مگر ایک نوکر کو اجازت حاصل کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ وہ اس کو ٹھی والے کا بندہ اور خادم ہے۔پس جنت میں انسان تب ہی داخل ہو سکتا ہے جب کہ عبداللہ بن جائے ورنہ اور کوئی صورت نہیں ہے۔اور اس طرح انسان جنت میں داخل ہو گا تو اپنے حق اور اپنی خوبی سے نہیں بلکہ اپنے حقیقی آقا کا حقیقی غلام بن کر اس کے گھر جانے کا مستحق ہو جاوے گا ورنہ جب تک انسان اللہ کا عبد نہ ہو جائے جنت میں جاہی نہیں سکتا اور اس میں داخل ہی نہیں ہو سکتا۔اسی کی طرف قرآن کریم میں نہایت لطیف پیرایہ میں اشارہ کیا گیا ہے کہ فَادْخُلِي فِى عِبْدِي وَادْخُلِي جَنَّتِي (الفجر: ۳۱۰۳۰) یعنی جو لوگ اپنے اعمال سے خدا تعالیٰ کو راضی کریں گے وہی اس بات کے مستحق ہوں گے کہ ان کو کہا جاوے کہ اب وہ خدا کے بندے ہو گئے ہیں۔اور اس طرح خدا تعالیٰ کی جنت میں داخل ہونے کے مستحق ہو گئے ہیں۔جنت ایک ایسا مقام ہے جہاں تجلیات الیہ اعلیٰ پیمانہ پر ہوتی ہیں اور اس لئے وہ خدا کا گھر