انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 496 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 496

العلوم جلد ) خطا مالانه ہوں ان کو زائد سمجھے۔نوکری ، تجارت یا کوئی اور پیشہ جو انسان اختیار کرتا ہے یا علم سیکھتا اور دوسروں کو سکھاتا ہے یا بعض لوگ ستی سے بھی اپنی زندگی گزار دیتے ہیں اور وہ اپنی زندگی کا مقصد کھانا پینا اور سیریں کرنا سمجھ لیتے ہیں یہ اصل غرنہیں نہیں ہیں۔اس لئے انہی میں منہمک ہو جانا عقل و دانش سے بعید ہے۔دیکھو ایک شخص جو کسی مقدمہ کے لئے گھر سے روانہ ہو یا کسی قلعہ کے فتح کرنے کے لئے جائے وہ بھی کھانا کھائے گا اور مختلف قسم کے نظارے جو راستہ میں آدیں دیکھے گا۔مگر یہ سب کام اس کے ضمنی ہوں گے اصل مقصود نہ ہوں گے۔ان تمام کاموں کے کرتے وقت اس کی نظر اصل مقصد سے دور نہ جاوے گی اور وہ ان کی خاطر اصل مقصد کو قربان نہیں کر دے گا۔گو وہ ان باتوں کو بھی جہاں تک ممکن ہو اور یہ اس کے کاموں کی میں روک نہ ہوں چھوڑے گا نہیں۔اور ان کے کرتے وقت بھی یہ نیت رکھے گا کہ یہ میرے کام میں محمد ہوں۔مثلاً کھانا کھاوے گا تو سمجھے گا کہ اگر میں کھانا نہ کھاؤں گا تو لڑوں گا کیونکر؟ پس انسان کو اپنی زندگی کے متعلق بھی یہی رویہ اختیار کرنا چاہئے۔اسے اول تو اپنی پیدائش کی غرض کو سمجھنا چاہئے۔پھر اس کو مد نظر رکھ کر جو اور کام بھی کرنے پڑیں وہ کر سکتا ہے۔دوسرے لوگ اس نکتہ کو بھول چکے ہیں۔آپ لوگوں نے ایک تازہ عہد کیا ہے۔پس میں آپ کی توجہ اس طرف پھیرتا ہوں۔آپ لوگ ایسا نہ کریں بلکہ اس فرض کو ہمیشہ یاد رکھیں۔خدا تعالیٰ نے آپ لوگوں کو جو نور عطا کیا ہے اس نور کے ہوتے ہوئے باقی دنیا اندھی بھی ہو تو آپ کو ایسا نہیں ہونا چاہئے۔دنیا قول بلی کو بھول گئی ہے۔خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے جو روح دنیا روح کا خدا سے عہد میں آتی ہے اس سے سوال کیا جاتا ہے اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ (الاعراف (۱۷۳) کیا میں تیرا رب نہیں ہوں؟ یا دوسرے لفظوں میں یہ کہ کیا تو میرا عبد نہیں ہے۔روح جواب دیتی ہے بولی ہاں۔یعنی فطرت یہ گواہی دیتی ہے۔مگر بہت لوگ ہوتے ہیں جو اعمال سے اپنے اس اقرار کو جھٹلاتے ہیں لیکن مؤمن وہی ہے جس کی زبان اور عمل ایک جیسے ہوں۔خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے تم لوگوں کی زبان کان جماعت احمدیہ سے خطاب آنکھیں کھول دی ہیں اور تمہاری روحانی حسیں بہت تیز کر دی ہیں۔تمہارا یہ کام نہیں ہے کہ اپنی پیدائش کی اس غرض کو بھول جاؤ جس کے لئے پیدا کئے گئے ہو۔دوسرے لوگ اگر غفلت کرتے ہیں تو کر سکتے ہیں۔کیونکہ وہ نہیں جانتے کہ وہ کیوں