انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 495 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 495

العلوم جلد ۴ ۴۹۵ خطاب جلسہ سالانہ ۲۷ دسمبر ۱۹۱۹ء بڑا انعام ہے۔خدا تعالٰی کی غلامی کوئی ذلت کی بات نہیں بلکہ ایک نعمت ہے۔اور اس کی چھوٹی مثال یہ ہے کہ جب کسی کو بادشاہ کی ڈیوڑھی کا دربان مقرر کیا جاتا ہے تو وہ اپنے لئے اسے بڑی عزت سمجھتا ہے۔اس کے لئے تاریں چل جاتی ہیں اور بڑی خوشی منائی جاتی ہے۔یہ نہیں ہوتا کہ وہ شخص ماتم شروع کر دیتا ہے بلکہ دعوتیں اور پارٹیاں دی جاتی ہیں اور اسے بڑی عزت سمجھا جاتا ہے۔تو فرمایا میں نے اس لئے انسان کو پیدا کیا ہے کہ وہ میرا عبد بن جائے میری عبادت میں لگ جائے۔گویا انسان کو انعامات کا وارث بنانے کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔پس انسان کو اس لئے پیدا کیا گیا ہے کہ خدا تعالیٰ کی صفات اس پر ظاہر ہوں۔غرض خدا تعالیٰ نے انسان کی انسان کو اپنی زندگی کی اصل غرض کو یاد رکھنا چاہئے پیدائش کی یہ غرض بیان کی ہے کہ اس کا عبد بنے۔اور جس غرض کے لئے کوئی آتا ہے دانا وہی ہوتا ہے جو اس غرض کو اکرتا ہے۔مثلاً ایک تاجر جو لاہور تجارت کا مال خریدنے کے لئے جاتا ہے وہ اگر ایک دو گھنٹے چڑیا گھر دیکھ کر اور ایک دو گھنٹے عجائب گھر دیکھ کر واپس آجائے تو لوگ اسے یہی کہیں گے کہ بے وقوف ہے۔کیونکہ جو غرض کسی کی ہوتی ہے اسے اگر وہ پورا نہ کرے تو وہ جاہل اور نادان ثابت ہوتا ہے۔پس جب تک انسان اس خدا کا عبد بنے بغیر خاص انعام حاصل نہیں ہو سکتے غرض کو پورا نہیں کرتا جس کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔یعنی خدا تعالیٰ کا عبد نہیں بن جاتا دانا نہیں کہلا سکتا۔انسان کے لئے دانائی یہی ہے کہ پورے طور پر خدا تعالیٰ کا عبد بن جائے۔اور جب تک عبد نہ بنے خدا تعالیٰ کے انعام کا وارث نہیں بن سکتا۔کیونکہ جب تک کوئی کام نہ کرے اس وقت تک انعام کیسے پا سکتا ہے ؟ مثلاً حکومت کسی کو لڑنے کے لئے بھیجے مگر وہ میر تماشہ دیکھ کر واپس آجائے تو اس کو کوئی انعام نہیں دیا جاتا۔انعام وہی پاتا ہے جو فرمانبردار بن کر اور ہدایات پر کار بند ہو کر کار ہائے نمایاں دکھاتا ہے۔پس جب کہ انسان کی پیدائش کی غرض ہی یہ ہے کہ خدا کا عبد بنے اور ای وقت انعام حاصل کر سکتا ہے جب اس غرض کو پورا کرے۔تو اس کا فرض ہے کہ وہ اس غرض کو ہر وقت یاد رکھے اور اس کو پورا کرنے کی کوشش کرے۔باقی جس قدر چیزیں اور کام