انوارالعلوم (جلد 4) — Page 489
انوار العلوم - جلد ۴ ۴۸۹ خطاب جلسہ سالانہ کے ا و F1914 ہے یہ بالکل جھوٹا شور ہے۔مگر اس پر ان لوگوں نے بڑا شور مچایا حالا نکہ بات بالکل صاف تھی۔لیکن باوجود اس کے کہ وہ کہہ سکتے تھے کہ میں نے مولوی محمد علی صاحب کو خلیفہ قرار دے کر ان کے قتل کا فتویٰ دے دیا ہے۔چنانچہ ان کی طرف سے یہ کہا بھی گیا۔مگر یہ بھی بالکل غلط ہے۔کیونکہ میں اپنے مضامین میں لکھ چکا ہوں کہ وہ خلافت کے مدعی نہیں ہیں۔مگر ہم اسے بھی چھوڑتے ہیں۔خدا تعالیٰ نے ان کو اس سے بھی زیادہ شرمندہ کرایا ہے اور ان کی نیتوں کو ظاہر کر دیا ہے۔اور وہ اس طرح کہ تھوڑا ہی عرصہ ہوا پنجاب کے مسلمانوں کی طرف سے موجودہ لاٹ صاحب پنجاب کو ایک ایڈریس پیش کیا گیا تھا۔اس میں لکھا تھا کہ ہم سب مسلمانوں کی طرف سے درخواست کرتے ہیں کہ سلطان ترکی جو ہمارا خلیفہ ہے اس کے حقوق کی حفاظت کی جائے۔ان درخواست کرنے والوں میں غیر مبائعین کی انجمن کے سیکرٹری صاحب بھی شامل تھے۔پھر اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ دو کنگ مشن کی طرف سے ایک جلسہ کی دعوت مولوی صدرالدین کی طرف سے دی گئی اور دعوتی رقعہ میں لکھا گیا کہ یورپ ہمارے خلیفہ سلطان ترکی کے حقوق چھینے کی تیاریاں کر رہا ہے ان کی حفاظت کے لئے یہ جلسہ کیا جائے گا۔بهر حال یہ لوگ خلافت کے قائل تو ہو گئے۔مگر کون سی خلافت کے ؟ اس کے کہ حضرت مسیح موعود کے پیروؤں میں سے تو کسی کو حاصل نہیں ہو سکتی ہاں آپ کے منکروں میں سے خلیفہ ہو سکتا ہے۔بہت اچھا ایسا ہی سہی مگر اس پر بھی بس نہیں کی۔خدا تعالٰی نے انہیں اور طرح بھی پکڑا ہے۔ابھی تازہ خبر آئی ہے کہ لندن میں مسلمانوں کا ایک بڑا جلسہ ہوا جس میں یہ تجویز پیش کی گئی کہ خلافت مسلمانوں کا مذہبی مسئلہ ہے گورنمنٹ کو اس میں دخل نہیں دیتا چاہیے۔اس جلسہ کے پریزیڈنٹ ایک انگریز ڈاکٹرلیون تھے۔وہ کسی وجہ سے جلسہ میں نہ آسکے اور مولوی صدر الدین صاحب اس جلسہ کے پریزیڈنٹ ہوئے۔چودھری فتح محمد صاحب کو بھی اس میں مدعو کیا گیا تھا۔سوال و جواب کے وقت چودھری صاحب نے ڈاکٹر عبدالمجید صاحب سے جنہوں نے تقریر کی تھی۔پوچھا۔کیا مسئلہ خلافت ایک مذہبی سوال ہے ؟ ڈاکٹر عبدالمجید صاحب نے جواب دیا۔ہاں۔مذہبی سوال ہے۔اور خلافت اسلام کا ایک اہم اور ضروری جزو ہے۔چودھری صاحب نے اس پر