انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 488 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 488

-١ جلد" ۴۸۸ خطاب جلسہ سالانہ کے ۲ دسمبر ۱۹۱۹ء سکتی ہیں جن کی طرف سے مجھے کہا گیا کہ ہم ان لوگوں سے نہیں مل سکتے۔اگر کوئی ایسا وقت آئے جب کہ ہمیں ان میں سے کسی کو خلیفہ ماننا پڑے تو ہم کسی اور کو مان لیں گے مگر ان کو نہیں مانیں گے۔مگر میں نے ان کو یہی کہا کہ خواہ کچھ ہو میں جماعت میں اختلاف پسند نہیں کرتا۔میں ان میں سے جو خلیفہ ہو گا اس کی بیعت کرلوں گا۔مگر خدا کچھ اور چاہتا تھا اور جو کچھ وہ چاہتا تھا وہی ہوا۔تو ان لوگوں کا ہماری نیتوں پر حملہ کرنا دراصل خدا تعالی پر حملہ کرنا ہے کیونکہ یہ دل کی حالت کو نہیں جانتے۔رسول کریم فرماتے ہیں۔هَلْ شَقَقْتَ قَلْبَهُ " کیا تم جس انسان کی نیت پر حملہ کرتے ہو اس کا دل پھاڑ کر تم نے دیکھ لیا ہے؟ ان لوگوں نے ہماری نیتوں پر بے جا حملے کئے۔مگر ہماری نیتوں پر غیر مبالعین کے حملے اب خدا تعالیٰ نے ان کی نیتوں کو کھول کر رکھ دیا تو ہے۔ان کی طرف سے اعلان ہوا تھا کہ مسیح موعود کے بعد کسی کو ہم اس لئے خلیفہ نہیں مان سکتے کہ خلیفہ کا خلیفہ نہیں ہو سکتا۔پھر انہوں نے کہا کہ واجب الاطاعت خلافت کوئی شرعی مسئلہ نہیں ہے۔خلیفہ یا تو بادشاہ ہو سکتا ہے یا مامور اور جو ایسا نہ ہو وہ اسلامی طور پر خلیفہ نہیں کہلا سکتا۔پھر مولوی محمد علی صاحب نے اپنے ایک ٹریکٹ میں لکھا کہ ہم مولوی صاحب کے الفاظ کا احترام کرنے کے لئے کہتے ہیں انجمن کا پریزیڈنٹ بنا لیا جائے اور وہ امیر ہو۔بس اسے امارت کا حق ہو اور کچھ نہ ہو۔ہم ان کی نیتوں پر حملہ نہیں کرتے کہ ان کی مرضی خود یہ حق حاصل کرنے کی تھی۔لیکن جب وہ خود اپنی مرضی کا اظہار کر دیں تو ہمارا اس میں کیا دخل ہے۔پچھلے ہی دنوں میرا ایک حدیث کا درس غلط طور پر رسالہ مسئلہ خلافت اور غیر مبالعین تشھید میں چھپ گیا۔جس میں اس بات کا ذکر تھا کہ اگر ایک خلیفہ کی موجودگی میں کوئی دوسرا شخص خلافت کا دعوی کرے تو وہ واجب القتل ہوتا ہے۔اس پر ان لوگوں نے جھٹ شور مچا دیا کہ مولوی محمد علی صاحب کے قتل کا فتویٰ دے دیا گیا۔اب یہ امردو حالتوں سے خالی نہیں۔اول اگر مولوی محمد علی صاحب خلیفہ ہیں تو پہلے انہوں نے جھوٹ کہا کہ خلیفہ کا خلیفہ نہیں ہو سکتا۔اور اگر وہ خلافت کے مدعی نہیں تو اب جو شور مچایا جاتا ہ مسلم کتاب الایمان باب تحریم قتل الكافر بعد ان قال لا اله الا اللہ میں اس طرح ہے " أَفَلَا شُقَقْت عَنْ قلبه۔