انوارالعلوم (جلد 4) — Page 450
العلوم جلد مسلمانوں کا فرض - دیں بلکہ خود برطانیہ کو بھی اسلام سے زیادہ واقف کریں میں کہہ چکا ہوں کہ اسلام کی تبلیغ ایک مذہبی فرض تھا ایک سخت ذمہ داری تھی ایک نازک معاہدہ تھا جو خدا اور اس کے رسول کے ساتھ مسلمانوں نے کیا تھا۔مگر اس کو پورا کرنے کی طرف مسلمانوں نے توجہ نہیں کی۔اگر پہلے مذہب کے حکم کے ماتحت انہوں نے اس کام سے غفلت برتی ہے۔تو اب اپنی جان بچانے کے لئے عزت کی زندگی کے بسر کرنے کے لئے ان کو اس کام کی طرف توجہ کرنی چاہئے۔اور سب ذرائع عارضی ہیں مگریہ ذریعہ کامیابی مستقل ہے۔جب کوئی شخص بیماریوں کا گھر بن جاتا ہے۔تو تو طبیب سمجھ لیتا ہے کہ یہ سب کسی خاص سبب سے پیدا ہوئی ہیں اور وہ بجائے الگ الگ بیماریوں کا علاج کرنے کے اس جڑ کا علاج کرتا ہے۔اس وقت مسلمانوں کے دنیاوی مصائب کا اصل سبب ان ممالک کا اسلام کے متعلق غلط واقفیت رکھنا ہے جن کو اس وقت غلبہ اور اقتدار حاصل ہے۔پس فردا فردا ان مصائب کا علاج فضول ہے۔جڑ کا علاج کرو اور مرض خود دور ہو جاوے گی۔بے شک یہ بات درست ہے کہ ان ملکوں کو مسلمان کرنے کے لئے صدیاں چاہئیں۔لیکن اس تعصب کو دور کرنے کے لئے جو ان ممالک میں پیدا ہے صدیوں کی ضرورت نہیں۔ایک معقول تعداد اسلام سے واقف کار آدمیوں کی اگر امریکہ اور فرانس کی طرف فورا نکل جاوے۔تو چند ماہ میں بہت کچھ جہالت اور تعصب دور کر سکتی ہے۔ہم نے انگلستان میں اس کا تجربہ کر لیا ہے اور وہ تجربہ کامیاب ہوا ہے۔دو سو کے قریب تو اس وقت وہاں کے باشندے مسلمان ہو چکے ہیں۔مگر ہزاروں لاکھوں آدمی اسلام سے واقف ہو کر اس سے تعصب چھوڑ بیٹھے ہیں۔پس جلدی کرو اور اس تجربہ سے فائدہ اٹھاؤ۔میرا ارادہ جلد ہی امریکہ میں بھی ایک مشن قائم کرنے کا تھا۔مگر امریکہ سے اس غیر مذہب والے کی آواز نے مجھے اور بھی جلد اس کام کے کرنے کی طرف توجہ دلائی ہے۔مگر جس کام کو آپ لوگ چاہتے ہیں اس کے لئے اور بھی زیادہ جلدی اور زیادہ آدمیوں کی ضرورت ہے۔اگر کسی کامیابی کی امید کی جاسکتی ہے تو اس طرح کہ چند آدمی اسلام کے واقف فرانس میں رکھے جاویں جو علاوہ اخباروں اور رسالوں کی کے ذریعے اسلام کی خوبیوں سے لوگوں کو واقف کرنے کے مختلف بلاد کے لیڈروں سے بھی میں اور ان کو بھی بتائیں کہ اسلام تہذیب و شائستگی کا قائم کرنے والا ایک ہی مذہب ہے نہ کہ اس کا مٹانے والا۔اس طرح کچھ لوگ امریکہ جاویں اور وہاں اخباروں اور رسالوں کے ذریعہ اسلام سے وہاں کے لوگوں کو واقف کرنے کے علاوہ تمام ملک کے وسیع دورے کریں۔اور