انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 444 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 444

انوار العلوم جلد ۴ ۴۴۴ اس قسم کے مظالم اور حکومتوں میں بھی ہیں۔روس میں جو کچھ یہود سے ہو تا رہا ہے وہ آرمینیا کے قتل عام سے کم نہیں بلکہ بہت زیادہ ہے۔اب بولشویک جو کچھ کر رہے ہیں۔سب دنیا اس انگشت بدندان ہے۔ہزاروں نہیں لاکھوں آدمی انہوں نے قتل کر دیئے ہیں۔اور ایسے مظالم سے کام لیتے ہیں کہ عقل دنگ ہو جاتی ہے اور طبیعت صحیح تسلیم کرنے سے رکتی ہے۔مگر باوجود اس کے واقعات کا انکار نہیں کیا جا سکتا۔مگر وہی حکومتیں جو ترکی سلطنت کے قیام کے خلاف ہیں روس کے ملک میں دخل دینے سے نہ صرف یہ کہ خود علیحدہ ہیں بلکہ برطانیہ جو اس ظلم کو برداشت نہیں کر سکتا اس کے راستہ میں بھی روک ڈالتی ہیں۔اور عملی مدد تو الگ رہی ہے روس کا بائیکاٹ تک کرنے کے لئے تیار نہیں۔امریکہ جو اس وقت لوائے حریت کا حامل ہے اور سب سے زیادہ انصاف و عدل کا دعویٰ کرتا ہے۔اور اسی وجہ سے پریذیڈنٹ ولسن کہتا ہے کہ اگر اس جنگ کے بعد ترکی حکومت قائم رہے تو گویا اس جنگ کی غرض ہی فوت ہو گئی۔خود اس کے ملک میں ہم دیکھتے ہیں کہ مذہب کے وسیع اختلافات کی وجہ سے نہیں ، کالے اور گورے رنگ کے فرق سے ایسے ایسے مظالم ہو جاتے ہیں کہ حیرت آتی ہے۔ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا کہ و کسبرگ میں لائڈ کلے نامی ایک انیس سالہ حبشی لڑکا جو کسی الزام کے ماتحت حوالات میں تھا اور جو بعد کی تحقیق سے بالکل بے گناہ ثابت ہوا اسے عام آبادی نے قید خانہ توڑ کر نکال لیا۔اور پندرہ سو شہری اسے عذاب دینے کے لئے جمع ہوئے۔ایک درخت پر اسے لٹکا دیا گیا اور بالکل ننگا کر دیا گیا۔بعض نے مشورہ دیا کہ اسے قتل کر دیا جادے۔مگر دوسروں نے کہا نہیں اسے آہستہ آہستہ مرنے دو۔اور پہلے مٹی کا تیل اس کے بدن کو ملا گیا۔پھر لکڑیوں کا انبار لگا کر پٹرول او پر ڈال کر اسے جلایا گیا۔اس کے پہنچنے اور چلانے اور آہ و فریاد کرنے کو ایک لطف تماشہ سمجھ کر عورت و مرد نے ڈیڑھ گھنٹہ تک یہ نظارہ دیکھا۔اور جب اس کی لاش اتاری گئی تو وہ رسیاں جس سے وہ بندھا ہوا تھا ان کے ٹکڑے بطور یادگار کے لوگوں نے اپنے پاس رکھے۔اور اس درخت کو جس سے وہ لٹکایا گیا تھا ایک مقدس یاد گار قرار دیا گیا۔پھر ابھی پچھلے ماہ میں ہی نسکیگو میں جیشیوں پر جو کچھ ظلم کئے گئے ہیں اخبارات میں شائع ہوتے ہی رہے ہیں اس کی وجہ کیا تھی؟ صرف یہ کہ ایک حبشی لڑکا جھیل کے کنارہ پر غلطی سے اس حصہ پر چلا گیا تھا جو سفید رنگ کی آبادی کے لئے مخصوص کیا گیا تھا۔اس پر سفید آبادی نے اس پر پتھروں کا مینہ برسایا اور اس واقعہ سے وہ خطرناک آگ بھڑک اٹھی جس نے پچھلے دنوں تمام دنیا کو