انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 443 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 443

لوم جلد ۴ ۴۴۳ ترکی کا مستقبل اور مسلمانوں کا فرض اقوام کی رائے بھی بدلی جاوے جو اس وقت صلح کی کانفرنس میں حصہ لے رہی ہیں۔خصوصاً امریکہ اور فرانس کی۔اگر ان دونوں ملکوں کی رائے بدلی جائے تو پھر کوئی مشکل نہیں رہتی۔مگر ایسی کوئی کوشش کرنے سے پہلے یہ سوال حل کرنا چاہئے کہ ان اقوام کو ترکی سے اس قدر نفرت کیوں ہے؟ کیونکہ جو خیالات ان کے ان فیصلوں کے محرک ہیں۔انہی کے دور کرنے سے کامیابی ہو سکتی ہے۔ہم دیکھتے ہیں کہ جرمن قوم جو جنگ کی اصل بانی ہے اور جس نے جنگ کے دوران میں انسانیت اور آدمیت کے تمام اصول کو پامال کر دیا تھا وہ صرف ایک چھوٹا سا ٹکڑا جو وہ بھی فرانس سے لیا ہوا تھا چھوڑ کر اور کسی قدر علاقہ پولینڈ کا آزاد کر کے پھر اسی طرح اپنے ملک پر قابض ہے۔آسٹریا جو اس جنگ کا بانی تھا اپنے ملک میں اسی طرح حکومت کر رہا ہے اور صرف ان غیر علاقوں کو جو اس سے خود جدا ہونا چاہتے تھے جدا ہونے کی اجازت دی گئی ہے۔بلغاریہ باوجود انتہائی درجہ کے مظالم اور غداری اور معاہدہ شکنی کے اپنے ملک پر قابض ہی نہیں بلکہ اسے سمندر کی طرف راستہ دینے کی تجاویز ہو رہی ہیں۔رومانیہ نے تین دفعہ ادھر سے ادھر پہلو بدلا مگر اور زیادہ علاقہ کا حق دار قرار دیا گیا ہے۔لیکن ترک جس نے خود یوروپین طاقتوں کے اقوال کے مطابق مجبور ہو کر جرمن دباؤ کے نیچے جنگ کی تھی۔اور جس نے جنگ کے دوران میں نہایت شرافت نہایت دلیری اور بہادری سے کام کیا تھا اور بحیثیت قسم کا ظلم نہیں کیا اس کو ناقابل حکومت قرار دیا جا کر نہ صرف یہ کہ اسے اس کے رے مقبوضات سے محروم رکھا جاتا ہے بلکہ جس ملک میں وہ بستا ہے اور دوسری آبادی اس قدر کم ہے کہ نہ ہونے کے برابر ہے اس میں بھی اس کی حکومت کو مٹانے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔اور کم سے کم اسے کسی دوسرے کے اقتدار کے نیچے رکھنا تو ایک ایسی ضرورت سمجھی جاتی ہے کہ اس کے بغیر چارہ ہی نہیں۔کہا جاتا ہے کہ آرمینیا کے قتل عام اس کی اصل وجہ ہیں۔اور مسلمان اس اعتراض کا جواب دینے کی طرف سرعت سے متوجہ ہوتا ہے۔مگر قطع نظر اس کے کہ یہ الزام خود ثبوت طلب ہے۔کیونکہ ہسپانیہ میں بعض مسیحیوں کا خود ان کی مساجد میں جاکر ان کے دین کی ہتک کرنا اور بعض دفعہ کسی جوشیلے کے ہاتھ سے مارا جانا اور پھر اس کی قوم کا اسے مسلمانوں کا ظلم قرار دے کر یورپ میں شور مچانا اور اسی قسم کے اور واقعات موجود ہیں جو ایسے الزامات کو غور تحقیق کے بعد قبول کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔لیکن ان کو صحیح تسلیم کر کے بھی دیکھا جاتا ہے کہ