انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 15 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 15

رالعلوم جلد ۴ ۱۵ اطاعت طرح ہر ایک بات کے متعلق کہا جا سکتا ہے پھر کیا احسان کچھ ہے ہی نہیں ؟ بات یہ ہے کہ احسان میں احسان کرنے والے کو بھی فائدہ پہنچ جاتا ہے مگر وہ فائدہ کبھی پیش نظر ہوتا ہے اور کبھی پوشیدہ تو ایسا فعل جس کا نتیجہ دوسرے کے لئے اچھا نکلے اس کو احسان کہتے ہیں۔تو نادان ہے وہ جو کہتا ہے کہ گورنمنٹ نے ہم پر کیا احسان کیا ہے؟ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وقت ایک جنگ ہوئی تھی اور اب بھی ایک جنگ شروع ہے مگر وہ جنگ اس کے مقابلہ میں بہت چھوٹی تھی۔اس وقت کی حضرت مسیح موعود کی تحریریں موجود ہیں۔اس وقت گورنمنٹ کے لئے چندے اکٹھے کئے گئے۔مدد دینے کی تحریکیں کی گئیں۔دعائیں کرائی گئیں۔آج بھی ہمارا فرض ہے کہ ایسا ہی کریں۔یہ تو ہم جانتے ہیں کہ یہ جنگ دنیا کے گناہوں کی وجہ سے اور حضرت مسیح موعود کی صداقت کے لئے شروع ہوئی ہے مگر باوجود اس کے ہم پر جو گورنمنٹ کے احسان ہیں اور جو آرام پہنچ رہے ہیں وہ ہم سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ایسا کریں۔اس وقت تک ہماری جماعت نے کئی ایک طریق سے گورنمنٹ کی مدد کی ہے۔جماعت کی تعداد کے لحاظ سے ہمارے بہت سے آدمی میدان جنگ میں گئے ہوئے ہیں۔پنجاب کی آبادی کے تناسب سے ہمارے حصے دو تین سو آدمی بنتے ہیں۔مگر اس وقت تک ہزار کے قریب جاچکے ہیں اور ہر فن اور ہر کام کے گئے ہیں۔یونیورسٹی ڈبل کمپنی میں جو ۲۰ (ساٹھ) آدمی لئے گئے ہیں۔ان میں پانچ چھ ہماری جماعت کے ہیں۔جن میں سے ایک ایم۔ایس۔سی ہے۔جو غالبا سب سے بڑا ڈگری یافتہ ہے تو ہماری جماعت نے اپنی طاقت اور ہمت سے بڑھ کر حصہ لیا ہے۔مگر ایک اور کام بھی ہے جس کا کرنا ضروری ہے۔میں نے حضرت مسیح موعود سے زبانی سنا تھا۔شاید آپ نے کہیں لکھا بھی ہو کہ ایک خطرناک جنگ ہو گی۔معلوم نہیں اس وقت ہم ہوں گے یا نہیں ہوں گے۔مگر گورنمنٹ کے لئے اسی وقت دعا کر دیتے ہیں کہ خدا اسے کامیاب کرے۔انبیاء کے بھی کیسے پاک دل ہوتے ہیں اور کیسا احسان کا بدلہ احسان کرنے کا خیال رکھتے ہیں۔پھر آپ نے فرمایا ہے کہ ایک وقت ہندوستان میں ایسا آنے والا ہے کہ جب سب فرقے گورنمنٹ کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے اس وقت صرف میری ہی جماعت ہوگی جو فرمانبردار رہے گی۔اس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ آپ نے اپنی جماعت پر اس بات کا اعتبار کیا ہے کہ وہ ہمیشہ گورنمنٹ کی اطاعت شعار رہے گی۔