انوارالعلوم (جلد 4) — Page 390
العلوم جلد ۴ ۳۹۰ عرفان الهی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی وہی نمازیں پڑھتے وہی روزے رکھتے تھے جو اور بھی رکھتے تھے۔مگر آپ کو جو درجہ حاصل تھا کیا کسی اور کو بھی حاصل تھا؟ ہرگز نہیں۔اس کی وجہ یہی ہے کہ عام لوگوں کو جو نیکیاں نظر آتی ہیں ان کے پیچھے اور نیکیاں ہیں جو رسول کریم" کو نظر آتی تھیں اور آپ ان پر عمل کرتے تھے۔اور وہ بدیاں جو عام لوگ دیکھتے ہیں ان کے پیچھے اور بدیاں ہیں جنہیں رسول کریم دیکھتے تھے اور ان سے بچتے تھے۔اسی وجہ سے آپ کو وہ درجہ حاصل تھا جو اور کسی کو نہ تھا۔تو ظاہری نیکیوں اور بدیوں کے پیچھے بھی نیکیاں اور بدیاں ہیں لیکن وہ ایسی ہیں کہ انہیں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ان کو وہی سمجھ سکتا ہے جس کو ان کے سمجھنے کا خاص طور پر خدا تعالیٰ کی طرف سے ملکہ دیا جاتا ہے۔اور جب یہ ایک دفعہ حاصل ہو جاتا ہے اور اس کے مطابق عمل کیا جاتا ہے تو اور بڑھ جاتا ہے اور دن بدن بڑھتا رہتا ہے۔یہ چھوٹا درجہ ہے عرفان کا۔اس سے دوسرا درجہ یہ ہے کہ مخفی بدیوں کو ظاہر کر دیا جاتا ہے ایک بدی تو اس قسم کی ہوتی ہے کہ اس پر پردہ پڑا ہوتا ہے اس لئے جب تک پردہ نہ اٹھایا جائے نظر نہیں آتی لیکن ایک بدی ایسی ہوتی ہے کہ کو سامنے ہوتی ہے مگر معلوم نہیں ہوتی۔مثلا اگر کوئی سور کا گوشت بکرے کا کر کے پکارے تو کیا معلوم ہو سکتا ہے۔یا یہ کہ گوشت تو بکرے کا ہی ہو لیکن اس کا کھانا جائز نہ ہو۔اس قسم کی باتوں سے آگاہ کر دیا جائے اور ایسے لوگوں کے سامنے جنہیں عرفان حاصل ہوتا ہے جب کوئی ایسی چیز آتی ہے تو ان کے دل میں اس سے خاص حرکت یا نفرت ڈالی جاتی ہے جس سے وہ سمجھ جاتے ہیں۔کہتے ہیں ایک بزرگ بہت سے لوگوں کے ساتھ کھانا کھانے بیٹھے۔لیکن بغیر کچھ کھائے اٹھ کر چلے گئے۔یہ دیکھ کر دوسرے لوگوں نے بھی کھانا چھوڑ دیا اور ان سے جا کر چلے آنے کی وجہ پوچھی۔تو انہوں نے کہا کہ میرے نفس میں وہ کھانا کھانے کا خاص جوش تھا جس سے میں نے سمجھا اس میں ضرور کوئی نقص ہو گا اور میں اٹھ کر چلا آیا۔اس طریق سے ان لوگوں کو محفوظ رکھا جاتا ہے جن کا نفس کو ان کے قابو میں ہوتا ہے لیکن وہ مسلمان نہیں ہوتا۔وہ نفس کی رغبت سے سمجھ لیتے ہیں کہ بدی ہے۔لیکن جو اس سے اعلیٰ درجہ پر ہوتے ہیں۔ان کا نفس نیک ہو جاتا ہے اور اس کے سامنے خواہ کیسے رنگ میں کوئی برائی پیش ہو۔وہ فورا کہہ دیتا ہے۔بر رنگے کہ خواہی جامه ی پوش من انداز قدت را می شناسم اور یہی آخری درجہ عرفان کا ہوتا ہے کہ انسان نیکی کو نیکی اور بدی کو بدی دیکھ لیتا ہے خواہ