انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 365 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 365

۳۶۵ عرفان الهی ہو چکا ہو اسے صاف کر لے۔اور اس کا طریق یہ ہے کہ وہ تو بہ کرے۔عرفان الہی حاصل کرنے کے لئے یہ سب سے ضروری پہلی شرط عرفانِ الہی کی تو بہ ہے اور سب سے پہلا قدم ہے۔اس کے متعلق کوئی یہ نہ کہے کہ یہ تو معمولی بات ہے ہم روز تو بہ کرتے ہیں۔اس تو بہ سے میری مراد وہ تو بہ نہیں ہے جو روز کی جاتی ہے بلکہ کچھ اور ہے اور ابھی میں اسے کھول کر بیان کرونگا۔تو سب سے پہلی شرط عرفانِ الہی حاصل کرنے کے لئے تو بہ ہے۔مگر صرف مونہہ سے یہ کہہ دینے سے کہ "میری تو بہ " تو بہ نہیں ہو جاتی۔بلکہ اس کے لئے سات امور کا ہونا ضروری ہے۔تو بہ کے سات امور ضروریہ کا بیان اور جب تک وہ نہ ہوں اس وقت تک تو بہ پوری تو بہ نہیں ہو سکتی۔وہ امور یہ ہیں۔(۱) یہ کہ انسان اپنے گزشتہ گناہوں پر ندامت کا احساس پیدا کرے اور وہ اس طرح کہ پچھلے گناہوں کو یاد کر کے اور ان کو اپنے سامنے لاکر ان پر اس قدر نادم ہو کہ گویا پسینہ پسینہ ہو جائے (۲) دوسرا قدم تو بہ کے لئے یہ ہوگا کہ پچھلے فرائض جس قدر رہ چکے ہوں ان میں سے جن کو ادا کیا جا سکے ان کو ادا کیا جائے ہاں جو ادا نہیں کر سکتا انکی مجبوری ہے۔مثلاً اگر نماز نہیں ھتا رہا تو اس کو ادا نہیں کر سکتا نہ اس کے ادا کرنے کا شریعت میں حکم ہے اور نہ یہ ادا ہو سکتی ہے۔ہاں اگر ایسے وقت میں تو بہ کا ارادہ کیا جائے کہ کسی نماز کا وقت ہو تو ادا کرے۔یا صاحب استطاعت ہونے کے باوجود حج نہیں کیا تھا اب حج کرلے۔یا اگر زکوۃ نہیں دی تھی تو ساری عمر کو جانے دے اس سال کی دیدے۔تو پہلے انسان اپنے گذشتہ گناہوں پر ندامت پیدا کرے۔اور دوسرے پچھلے فرائض جو ادا کر سکتا ہو ادا کرے (۳) تیسرے یہ کہ پچھلے گناہوں کا ازالہ کر دے۔ازالہ سے میری مراد یہ نہیں کہ اگر اس نے کسی کو قتل کیا تو زندہ کر دے۔یا زنا کیا ہے تو لوٹا دے۔بلکہ یہ ہے کہ جن گناہوں کا ازالہ ہو سکے ان کا کر دے۔مثلاً اگر کسی کی بھینس چرا کر اپنے گھر میں باندھی ہوئی ہے تو اسے واپس کرے اور اپنے پاس نہ رکھے (۴) چوتھی شرط یہ ہے کہ جس شخص کو کوئی دکھ پہنچایا ہو اس کے دکھ کا ازالہ کرنے کے علاوہ اس سے عضو طلب کرے۔یہ ایک بار یک مسئلہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے بندوں کے گناہ کے