انوارالعلوم (جلد 4) — Page 364
العلوم جلد الهر سوم سم عرفان الهی تحقیقات سے ان لوگوں کی امداد کرو جن کی توجہ اس طرف ہو رہی ہے اور جو اس کے لئے کوشش کر رہے ہیں تاکہ دنیا میں ایک نیا انقلاب واقع ہو اور دنیا ایک قدم اور ترقی کرے۔فی الحال میں صرف اس قدر بیان کر دیتا ہوں کہ بعض روحانی بیماریاں ایسی ہوتی ہیں۔جن کے علاج کے لئے کسی عارف اور ولی اللہ کے پاس نہیں جانا چاہئے بلکہ کسی ڈاکٹر اور طبیب کو تلاش کرنا چاہئے کیونکہ اس قسم کی بیماریاں یا تو پیٹھ کے اعصاب کی کمزوری اور نقص سے یا اور خاص خاص بیماریوں کے نتیجہ میں ہوتی ہیں۔مثلاً بعض اوقات زنا ایک اخلاقی یا مذ ہبی جرم نہ ہو گا بلکہ کسی خاص دماغی بیماری کا نتیجہ ہو گا۔اسی طرح بعض ڈاکہ بعض چوری ، بعض جھوٹ ، خاص خاص نقصوں کے نتیجہ میں ہونگے۔ان کا علاج روحانی ریاضتوں سے اس عمدگی سے نہیں ہو سکتا جتنا جسمانی علاج کے ذریعہ۔مگر ابھی چونکہ میری تحقیق مکمل نہیں ہو سکی اس لئے میں اس مضمون کو اس وقت تفصیل کے ساتھ بیان نہیں کر سکتا۔اور کسی اور وقت پر چھوڑتا ہوں۔اپنے لئے یا آپ میں سے کسی کے لئے جس کو خدا تعالیٰ اسے بیان کرنے کی توفیق دے۔اب میں اصولی طور پر اس امر کو بیان کر کے کہ گناہوں کا گناہوں سے بچنے کا علاج علاج بعض اوقات جسمانی علاج کے ساتھ بھی کیا جا سکتا ہے ان دوسری تدابیر کو بیان کرتا ہوں جو برائیوں اور بدیوں سے بچنے کے لئے اختیار کی جاسکتی ہیں۔اول تدبیر گناہوں سے بچنے کی یہ ہے کہ انسان اپنا پچھلا حساب درست کرے۔بہت لوگ جو عرفان حاصل کرنا چاہتے ہیں وہ اس بات کا خیال نہیں رکھتے اس لئے کامیاب نہیں ہو سکتے وہ بہت کوشش کرتے ہیں کہ عرفان نصیب ہو مگر اس کے لئے طریق یہ اختیار کرتے ہیں کہ خراب شدہ چیز میں اچھی چیز ڈالتے ہیں۔ان کی مثال ایسی ہی ہوتی ہے جیسے پھٹے ہوئے دودھ میں اچھا دودھ ڈالنے والے کی ہوتی ہے۔اچھا دودھ تھوڑے سے خراب دودھ میں خواہ من بھر بھی ڈال دیا جائے تو بھی وہ خراب ہو جاتا ہے تو سب سے بڑی غلطی لوگ یہ کرتے ہیں کہ ابتدائی شرط کو پورا نہیں کرتے۔حالانکہ سب سے پہلے ضروری ہے کہ انسان اپنا پہلا حساب درست کرے اور پھر آگے قدم بڑھائے۔کیونکہ اگر پہلا ہی حساب کاپی میں غلط ہو اور اس کی میزان درست نہ ہو اور جس قدر اس میں جمع کیا جائیگا اس کی میزان بھی غلط ہی رہے گی۔لیکن اگر پہلی میزان درست ہوگی تو پھر سارا حساب درست ہو تا جائیگا۔پس جب کوئی انسان خدا تعالیٰ کے قرب اور معرفت کے حاصل ہو نیکی خواہش کرے تو اسے چاہئے کہ پہلے جو اس کا حساب خراب