انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 328 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 328

لوم جلد ہم ٣٢٨ اسلام میں ان ت کا آغاز بدیوں سے پر ہیز کیا ہے اور اسلام میں بھی اس کے احکام کو نہیں توڑا۔میں کیوں اور کس جرم میں اس عمدہ کو چھوڑ دوں جو خدا تعالیٰ نے مجھے دیا ہے۔میں تو اس قمیض کو کبھی نہیں اتاروں گا جو خدا تعالیٰ نے مجھے پہنائی ہے۔وہ شخص یہ جواب سن کر واپس آگیا اور اپنے ساتھیوں سے ان الفاظ میں آکر مخاطب ہوا۔خدا کی قسم! ہم سخت مصیبت میں پھنس گئے ہیں خدا کی قسم! مسلمانوں کی گرفت سے عثمان کو قتل کرنے کے سوائے ہم بچ نہیں سکتے کیونکہ اس صورت میں حکومت تہ و بالا ہو جائے گی اور انتظام بگڑ جاوے گا اور کوئی پوچھنے والا نہ ہو گا) اور اس کا قتل کرنا کسی طرح جائز نہیں۔اس شخص کے یہ فقرات نہ صرف ان لوگوں کی گھبراہٹ پر دلالت کرتے ہیں بلکہ اس امر پر بھی دلالت کرتے ہیں کہ اس وقت تک بھی حضرت عثمان نے کوئی ایسی بات پیدا نہ ہونے دی تھی جسے یہ لوگ بطور بہانہ استعمال کر سکیں اور ان کے دل محسوس کرتے تھے کہ حضرت عثمان کا قتل کسی صورت میں جائز نہیں۔عبد اللہ بن سلام کا مفسدوں کو نصیحت کرنا جب یہ لوگ حضرت عثمان" کے قتل منصوبہ کر رہے تھے۔حضرت عبداللہ بن سلام جو بحالت کفر بھی اپنی قوم میں نہایت معزز تھے اور جن کو یہود اپنا سردار مانتے تھے اور عالم بے بدل جانتے تھے تشریف لائے اور دروازہ پر کھڑے ہو کر ان لوگوں کو نصیحت کرنی شروع کی اور حضرت عثمان کے قتل سے ان کو منع فرمایا۔کہ اے قوم! خدا کی تلوار کو اپنے اوپر نہ کھینچو۔خدا کی قسم اگر تم نے تلوار کھینچی تو پھر اسے میان میں کرنے کا موقع نہ ملے گا ہمیشہ مسلمانوں میں لڑائی جھگڑا ہی جاری رہے گا۔عقل کرو آج تم پر حکومت صرف کوڑے کے ساتھ کی جاتی ہے۔(عموماً حدود شرعیہ میں کوڑے کی سزا دی جاتی ہے) اور اگر تم نے اس شخص کو قتل کر دیا تو حکومت کا کام بغیر تلوار کے نہ چلے گا (یعنی چھوٹے چھوٹے مجرموں پر لوگوں کو قتل کیا جاوے گا) یاد رکھو کہ اس وقت مدینہ کے محافظ ملائکہ ہیں۔اگر تم اس کو قتل کر دو گے تو ملائکہ مدینہ کو چھوڑ جائیں گے۔اس نصیحت سے ان لوگوں نے یہ فائدہ اٹھایا کہ عبد اللہ بن سلام صحابی رسول کریم ایک کو دھتکار دیا۔اور ان کے پہلے دین کا طعنہ دے کر کہا کہ اے یہو دن کے بیٹے ! تجھے ان کاموں سے کیا تعلق۔افسوس کہ ان لوگوں کو یہ تو یاد رہا کہ عبداللہ بن سلام یہودن کے بیٹے تھے لیکن یہ بھول گیا کہ آپ رسول کریم ﷺ کے ہاتھ پر ایمان لائے