انوارالعلوم (جلد 4) — Page 306
لعلوم جلد ۴ اسلام میں اختلافات کا آغاز اس قاصد کو جو ان کے بیان کے مطابق حضرت عثمان " کا خط والی مصر کی طرف لے جارہا تھا پکڑا تھا۔بویب مدینہ سے کم سے کم چھ منازل پر واقع ہے اور اس جگہ واقع ہے جہاں سے مصر کا راستہ شروع ہوتا ہے۔جب اہل مصر اس جگہ تک پہنچ گئے تھے تو اہل کوفہ اور اہل بصرہ بھی قریباً بالمقابل جہات پر چھ چھ منازل طے کر چکے ہوں گے اور اس طرح اہل مصر سے جو کچھ واقع ہوا اس کی اطلاع دونوں قافلوں کو کم سے کم بارہ تیرہ دن میں مل سکتی تھی۔اور ان کے آنے جانے کے دن شامل کر کے قریباً چوٹیں دن میں یہ لوگ مدینہ پہنچ سکتے تھے۔مگر یہ لوگ اس عرصہ سے بہت کم عرصہ میں واپس آگئے تھے۔پس صاف ثابت ہو تا ہے کہ مدینہ سے رخصت ہونے سے پہلے ہی ان لوگوں نے آپس میں منصوبہ بنالیا تھا کہ فلاں تاریخ کو سب قافلے واپس مدینہ کوٹیں اور ایک دم مدینہ پر قبضہ کر لیں اور چونکہ مصری قافلہ کے ساتھ عبد اللہ بن سبا تھا اور وہ نہایت ہوشیار آدمی تھا۔اس نے ایک طرف تو یہ دیکھا کہ لوگ ان سے سوال کریں گے کہ تم بلاوجہ کوٹے کیوں ہو اور دوسری طرف اس کو یہ بھی خیال تھا کہ خود اس کے ساتھیوں کے دل میں بھی یہ بات کھٹکے گی کہ فیصلہ کے بعد نقض عہد کیوں کیا گیا ہے۔اس لئے اس نے جعلی خط بنایا اور خود اپنے ساتھیوں کی عقلوں پر پردہ ڈال دیا۔اور غیظ و غضب کی آگ کو ان کے دلوں میں اور بھی بھڑکایا۔اور صدقہ کے اونٹ کا چرا لینا اور کسی غلام کو رشوت دے کر ساتھ ملا لینا کوئی مشکل بات نہیں۔اس خط کے پکڑنے کا واقعہ جس طرح بیان کیا جاتا ہے وہ خود غیر طبعی ہے۔کیونکہ اگر حضرت عثمان نے یا مردان نے کوئی ایسا خط بھیجا ہو تا تو یہ کیونکر ہو سکتا تھا کہ وہ غلام کبھی ان کے سامنے آتا اور کبھی چھپ جاتا۔یہ حرکت تو وہی شخص کر سکتا ہے جو خود اپنے آپ کو پکڑوانا چاہے۔اس غلام کو تو بقول ان لوگوں کے حکم دیا گیا تھا کہ اس قافلہ سے پہلے مصر پہنچ جائے۔پھر بویب مقام پر جو مصر کا دروازہ ہے اس شخص کا ان کے ساتھ ساتھ جانا کیونکر خیال میں آسکتا ہے۔قافلہ اور ایک آدمی کے سفر میں بہت فرق ہوتا ہے ایک آدمی جس سرعت سے سفر کر سکتا ہے قافلہ نہیں کر سکتا۔کیونکہ قافلہ کی حوائج بہت زیادہ ہوتی ہیں اور سب قافلہ کی سواریاں ایک جیسی تیز نہیں ہوتیں۔پس کیونکر ممکن تھا کہ بویب تک قافلہ پہنچ جاتا اور وہ پیغامبرا بھی قافلہ کے ساتھ ہی ہو تا اس وقت تو اسے اپنی منزل مقصود کے قریب ہونا چاہئے تھا۔جو حالت وہ اس پیغامبر کی بیان کرتے ہیں وہ ایک جاسوس کی نسبت تو منسوب کی جا سکتی ہے پیغامبر کی نسبت