انوارالعلوم (جلد 4) — Page 305
دم جلد ۴ ۳۰۵ اسلام میں ت کا آغاز کہ تم نے یہ خط بنایا ہے بلکہ ان کی غلطی پر بھی پردہ ڈالتے ہیں اور صرف اسی قدر فرماتے ہیں کہ تم جانتے ہو کہ خط خط سے مل جاتا ہے اور انگوٹھی کی نقل بنائی جا سکتی ہے اور اونٹ بھی چرایا جا سکتا ہے۔بعض لوگ جو حضرت عثمان کو بھی اس الزام سے بری سمجھتے ہیں اور ان لوگوں کی نسبت بھی حسن ظنی سے کام لینا چاہتے ہیں خیال کرتے ہیں کہ یہ خط مردان نے لکھ کر بطور خود بھیج دیا ہو گا۔مگر میرے نزدیک یہ خیال بالکل غلط ہے واقعات صاف بتاتے ہیں کہ یہ خط انہی مفسدوں نے بنایا ہے نہ کہ مردان یا کسی اور شخص نے۔اور یہ خیال کہ اگر انہوں نے بنایا ہوا تھا تو حضرت عثمان کا غلام اور صدقہ کا اونٹ ان کے ہاتھ کہاں سے آیا اور حضرت عثمان کے کاتب کا خط انہوں نے کس طرح بنا لیا اور حضرت عثمان کی انگوٹھی کی مہر اس پر کیونکر لگادی ایک غلط خیال ہے۔کیونکہ ہمارے پاس اس کی کافی وجوہ موجود ہیں کہ یہ خط انہیں لوگوں نے بنایا تھا۔گو واقعات سے ایسا معلوم ہوتا ہے اور یہی قرین قیاس ہے کہ یہ فریب صرف چند اکابر کا کام تھا اور کوئی تعجب نہیں کہ صرف عبد اللہ بن سبا اور اس کے چند خاص شاگردوں کا کام ہو۔اور دوسرے لوگوں کو خواہ وہ سردار لشکر ہی کیوں نہ ہوں اس کا علم نہ ہو۔اس امر کا ثبوت کہ یہ کارروائی خط والے منصوبے کے ثبوت میں سات دلائل انہی لوگوں میں سے بعض لوگوں کی تھی یہ ہے:۔ان لوگوں کی نسبت اس سے پہلے ثابت ہو چکا ہے کہ اپنے مدعا کے حصول کے لئے یہ لوگ نیت اس جھوٹ سے پر ہیز نہیں کرتے تھے جیسا کہ ولید بن عتبہ اور سعید بن العاص کے مقابلہ میں انہوں نے جھوٹ سے کام لیا۔اسی طرح مختلف ولایات کے متعلق جھوٹی شکایات مشہور کیں جن کی تحقیق اکابر صحابہ نے کی اور ان کو غلط پایا۔پس جب کہ ان لوگوں کی نسبت ثابت ہو چکا ہے کہ جھوٹ سے ان کو پر ہیز نہ تھا تو کوئی وجہ نہیں کہ اس امر میں ان کو ملزم نہ قرار دیا جاوے اور ایسے لوگوں پر الزام لگایا جاوے جن کا جھوٹ ثابت نہیں۔جیسا کہ حضرت علی اور محمد بن مسلمہ نے اعتراض کیا ہے ان لوگوں کا ایسی جلدی واپس آجانا اور ایک وقت میں مدینہ میں داخل ہونا اس بات کی شہادت ہے کہ یہ ایک سازش تھی۔کیونکہ جیسا کہ تاریخ سے ثابت ہوتا ہے اہل مصر بیان کرتے تھے کہ انہوں نے بویب مقام پر