انوارالعلوم (جلد 4) — Page 301
العلوم جلد اسلام میں اختلافات کا آغاز غرض اس زمانہ کے صحیح واقعات معلوم کرنے کے لئے احتیاط کی ضرورت ہے اور جرح و تعدیل کی حاجت ہے۔سلسلہ واقعات کو مد نظر رکھنے کے بغیر کسی زمانہ کی تاریخ بھی صحیح طور پر معلوم نہیں ہو سکتی مگر اس زمانہ کی تاریخ تو خصوصاً معلوم نہیں ہو سکتی۔اور یوروپین مصنفین نے اسی اختلاف سے فائدہ اٹھا کر اس زمانہ کی تاریخ کو ایسا بگاڑا ہے کہ ایک مسلمان کا دل اگر و غیرت رکھتا ہو ان واقعات کو پڑھ کر جلتا ہے اور بہت سے کمزور ایمان کے آدمی تو اسلام سے بیزار ہو جاتے ہیں۔افسوس یہ ہے کہ خود بعض مسلمان مؤرخین نے بھی بے احتیاطی سے اس مقام پر ٹھو کر کھائی ہے اور دوسروں کو گمراہ کرنے کا باعث بن گئے ہیں۔ره میں اس مختصر وقت میں پوری طرح ان حضرت عثمان اور دیگر صحابہ کی بریت غلطیوں پر تو بحث نہیں کر سکتا۔جن میں یہ لوگ پڑے ہوئے ہیں لیکن میں اختصار کے ساتھ وہ صحیح حالات آپ لوگوں کے سامنے بیان کرتی دوں گا جن سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عثمان اور دیگر صحابہ ہر ایک فتنہ سے یا عیب سے پاک تھے۔بلکہ ان کا رویہ نہایت اعلیٰ اخلاق کا مظہر تھا اور ان کا قدم نیکی کے اعلیٰ مقام پر قائم تھا۔میں بتا چکا ہوں کہ مفسد لوگ بظاہر رضامندی کا باغیوں کا دوبارہ مدینہ میں داخل ہونا اظہار کر کے اپنے گھروں کی طرف واپس چلے گئے۔کوفہ کے لوگ کوفہ کی طرف۔بصرہ کے لوگ بصرہ کی طرف اور مصر کے لوگ مصر کی طرف۔اور اہل مدینہ امن و امان کی صورت دیکھ کر اور ان کے لوٹنے پر مطمئن ہو کر اپنے اپنے کاموں پر چلے گئے لیکن ابھی زیادہ دن نہ گزرے تھے کہ ایسے وقت میں جب کہ اہل مدینہ یا تو اپنے کاموں میں مشغول تھے یا اپنے گھروں میں یا مساجد میں بیٹھے تھے۔اور ان کو کسی قسم کا خیال بھی نہ تھا کہ کوئی دشمن مدینہ پر چڑھائی کرنے والا ہے۔اچانک ان باغیوں کا لشکر مدینہ میں داخل ہوا اور مسجد اور حضرت عثمان کے گھر کا محاصرہ کر لیا اور تمام مدینہ کی گلیوں میں منادی کرا دی گئی کہ جس کسی کو اپنی جان کی ضرورت ہو اپنے گھر میں آرام سے بیٹھا رہے اور ہم سے بر سر پیکار نہ ہو ورنہ خیر نہ ہوگی۔ان لوگوں کی آمد ایسی اچانک تھی کہ اہل مدینہ مقابلہ کے لئے شش نہ کر سکے۔حضرت امام حسن بیان فرماتے ہیں کہ میں مسجد میں بیٹھا ہوا تھا کہ اچانک شور ہوا اور مدینہ کی گلیوں میں تکبیر کی آواز بلند ہونے لگی (یہ مسلمانوں کا نعرہ جنگ تھا) ہم