انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 3 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 3

الماء ام جلد ۴ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ اطاعت اور احسان شناسی ( تقریر - حضرت فضل عمر خلیفة المسیح الثانی جو آپ نے ۴۔اگست ۱۹۱۷ء کو جنگ عظیم اول کی تیسری سالگرہ کے موقع پر قادیان دار الامان میں منعقدہ دعائیہ جلسہ میں فرمائی) ہر مذہب وملت کے لوگوں کو کچھ مواقع ایسے پیش آتے ہیں کہ وہ دوسرے مذاہب کے لوگوں کے سامنے اونچی نظر نہیں کر سکتے لیکن اسلام جس تعلیم کو دنیا کے سامنے پیش کرتا ہے اور جس صداقت کی طرف لوگوں کو بلاتا ہے وہ ایسی کامل اور بے نقص ہے کہ کوئی کمزوری اور کوئی کمی اس میں نہیں پائی جاتی۔کوئی معاملہ ایسا نہیں جس میں شریعت اسلام نے دخل دیا ہو یا جس میں دخل دینا ضروری ہو خواہ وہ مذہبی ہو یا سیاسی، تمدنی ہو یا معاشرتی جسے بھی اسلام نے لیا ہے اسے ایسا کامل ایسا بے عیب اور بے نقص کر کے بیان کیا ہے کہ ذرہ کمزوری نہیں پائی جاتی۔سیاست ہی کو لے لو اس میں ہم دیکھتے ہیں کہ مختلف مذاہب کی وجہ سے بڑے بڑے فتنے اور فساد اور بڑی بڑی جنگیں ہوتی اور بڑے بڑے مصائب آتے ہیں کیوں؟ اس لئے کہ مختلف مذاہب نے اپنے پیروؤں کو سیاست کے متعلق جو تعلیمیں دی ہیں وہ ایسی ناقص ہیں کہ ان پر عمل کرنے سے فتنہ پیدا ہو جاتا ہے۔یہودی مذہب میں غیر مذاہب والوں سے جو سلوک روارکھا گیا ہے اسے دیکھ کر انسان کانپ جاتا ہے۔اسی طرح ہندوؤں کے ہاں دیگر مذاہب کے لوگوں کے متعلق جو تعلیم دی گئی ہے وہ بہت سخت اور خطرناک ہے۔پنڈت دیانند صاحب نے اس تعلیم کا جو نقشہ ستیارتھ پر کاش میں کھینچا ہے وہ حیران کر دینے والا ہے۔اور اگر اس پر عمل کیا جاوے تو تباہی و بربادی میں کوئی شک ہی نہیں رہتا۔یہی حال دو سرے مذاہب کا ہے۔اور صرف اسلام ہی ایک ایسا مذہب ہے جس نے رعایا اور حکومت کے درمیانی تعلقات کو نہایت عمدہ بنانے کا طریق بتایا ہے۔اس لئے ایک مسلمان کسی حکومت کسی سلطنت اور کسی گورنمنٹ کے سامنے شرمندہ نہیں ہو سکتا کیونکہ اسلام نے نفاق اور غداری کو سخت ناپسند فرمایا اور اس سے