انوارالعلوم (جلد 4) — Page 290
وم جلد ۴ • اسلام میں اختلافات کا آغاز والے اور اس کے لئے غیرت کا اظہار کرنے والے جھوٹ بولتے ہیں۔اتمام لگاتے ہیں اور ان کی کاموں سے ان کو کوئی عار نہیں معلوم ہوتی۔پس ایسے لوگوں کا حضرت عثمان کے خلاف شور مچانا ہی اس امر کا کافی ثبوت ہے کہ کسی حقیقی نقص کی وجہ سے یہ شورش نہیں تھی بلکہ اسلام سے دوری اور بے دینی کا نتیجہ ہے۔دوسرا استنباط اس واقعہ سے یہ ہوتا ہے کہ ان لوگوں کے پاس حضرت عثمان اور ان کے عمال کے برخلاف ایک بھی واجبی شکایت نہ تھی کیونکہ اگر واقعہ میں کوئی شکایت ہوتی تو ان کو جھوٹ بنانے کی کیا ضرورت تھی۔جھوٹی شکایات کا بنانا ہی اس امر کا کافی ثبوت ہے کہ ان لوگوں کو حقیقی شکایات نہ تھیں۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ اشتر کے آنے سے پہلے جب یزید نے جلسہ کیا ہے تو اس وقت صرف چند سپاہی لوگ ہی اس جلسہ میں شریک ہوئے تھے اور قعقاع کے روکنے پر یہ لوگ ڈر گئے اور جلسہ کرنا انہوں نے موقوف کر دیا تھا۔مگر اسی مہینہ کے اندر اندر ہم دیکھتے ہیں کہ اشتر کے جھوٹ سے متأثر ہو کر کوفہ کے عامۃ الناس کا ایک کثیر گروہ ان لوگوں کے ساتھ مل کر سعید کو روکنے اور دوسرے والی کے طلب کرنے کے لئے کوفہ سے نکل پڑا۔یہ امر اس بات کی شہادت ہے کہ پہلے لوگ ان کی باتوں میں نہ آتے تھے۔کیونکہ ان کے پاس ان کو جوش دلانے کا کوئی ذریعہ نہ تھا۔اشتر نے جب ایسا ذریعہ ایجاد کیا جو لوگوں کی غیرت کو بھڑ کانے والا تھا تو عامتہ الناس کا ایک حصہ فریب میں آگیا اور ان کے ساتھ مل گیا۔اس فتنہ کے اظہار سے یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ ان لوگوں کی اصل مخالفت حضرت عثمان سے تھی نہ کہ ان کے عمال سے۔کیونکہ ابتداء یہ لوگ آپ کے ہی خلاف جوش بھڑکانا چاہتے تھے مگر جب دیکھا کہ لوگ اس بات میں ان کے شریک نہیں ہو سکتے بلکہ ان کی مخالفت پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔تب امراء کے خلاف جوش بھڑکانا شروع کر دیا۔ایک جماعت کثیر کے ساتھ مدینہ کی طرف رخ کرنا بھی ثابت کرتا ہے کہ ان کی نیت حضرت عثمان کے متعلق اچھی نہ سعید بن العاص کے آزاد کردہ غلام کو بلاوجہ قتل کر دینے سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ اپنے مقاصد کے پورا کرنے کے لئے ان لوگوں کو کسی جرم کے ارتکاب سے اجتناب نہ تھا۔معلوم ہوتا ہے کہ اب یہ لوگ اس بات کو محسوس کرنے لگ گئے تھے کہ اگر چندے اور دیر ہوئی تو امت اسلامیہ پوری طرح ہمارے فتنہ کی اہمیت سے آگاہ ہو جاوے گی۔اس لئے وہ جس طرح بھی ہو اپنے مدعا کو جلد سے جلد پورا کرنے کی فکر میں تھے۔مگر حضرت عثمان نے اپنی