انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 289 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 289

۲۸۹ اسلام میں اختلافات کا آغاز چیچنیں گے اور خواہش کریں گے کہ یہ زمانہ پھر لوٹ آوے مگر پھر خدا تعالی قیامت تک یہ نعمت ان کی طرف نہ لوٹائے گا۔عوام الناس شہر کے باہر جمع ہوئے اور مدینہ کا رخ کیا اور سعید بن العاص کا انتظار کرنے لگے۔جب وہ سامنے آئے تو ان سے کہا کہ آپ واپس چلے جاویں ہمیں آپ کی ضرورت نہیں۔سعید نے کہا کہ یہ بھی کوئی دانائی ہے کہ اس قدر آدمی جمع ہو کر اس کام کے لئے باہر نکلے ہو۔ایک آدمی کے روکنے کے لئے ہزار آدمی کی کیا ضرورت تھی۔یہی کافی تھا کہ تم ایک آدمی خلیفہ کی طرف بھیج دیتے اور ایک آدمی میری طرف روانہ کر دیتے۔یہ کہہ کر انہوں نے تو اپنی سواری کو ایڑی لگائی اور مدینہ کی طرف واپس لوٹ گئے تاکہ حضرت عثمان کو خبردار کر دیں۔اور یہ لوگ حیران رہ گئے اتنے میں ان کا ایک غلام نظر آیا اس کو ان لوگوں نے قتل کر دیا۔سعید بن العاص نے مدینہ پہنچ کر حضرت عثمان کو اس تمام فتنہ سے اطلاع دی۔آپ نے فرمایا کہ کیا وہ لوگ میرے خلاف اٹھے ہیں سعید نے کہا کہ وہ ظاہر تو یہ کرتے ہیں کہ والی بد لایا جاوے۔انہوں نے دریافت کیا کہ وہ کسے چاہتے ہیں؟ انہوں نے کہا ابو موسیٰ اشعری کو پسند ! کرتے ہیں۔حضرت عثمان نے فرمایا ہم نے ابو موسیٰ ابو موسیٰ اشعری کا والی کوفہ مقرر ہونا اشعری کو کوفہ کا والی مقرر کر دیا۔اور خدا کی قسم ہے ان لوگوں کو عذر کا کوئی موقع نہ دوں گا اور کوئی دلیل ان کے ہاتھوں میں نہیں آنے دوں گا اور ان کی باتوں پر آنحضرت لا کے حکم کے ماتحت صبر کروں گا یہاں تک کہ وہ وقت آجاوے جس کا یہ ارادہ کرتے ہیں یعنی عثمان کے علیحدہ کرنے کا۔اس فتنہ نے ظاہر کر دیا کہ یہ لوگ جھوٹ اور فریب سے کسی قسم کا پر ہیز نہیں رکھتے تھے۔مالک الاشتر کا جزیرہ سے بھاگے چلے آنا اور مدینہ سے مفسدوں کی سازشوں کا انکشاف آنے کا اظہار کرنا۔سعید بن العاص پر جھوٹا الزام لگانا اور شرمناک باتیں اپنے پاس سے بنا کر ان کی طرف منسوب کرنا ایسے امور نہیں ہیں جو ان مفسدوں کے اصل ارادوں اور مخفی خواہشوں کو چُھپا رہنے دیں۔بلکہ ان باتوں سے صاف پتہ چلتا ہے کہ یہ لوگ اسلام سے بالکل کو رے تھے۔اسلام جھوٹ کو جائز نہیں قرار دیتا اور فریب کا روادار نہیں۔اتمام لگانا اسلام میں ایک سخت جرم ہے۔مگر یہ اسلام کی محبت ظاہر کرنے