انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 263 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 263

العلوم جلد اسلام میں اختلافات کا آغاز تھے اور جب کوئی ناواقف مسلمان یا کوئی بدوی غلام آزاد شدہ مل جاتا تو اس کے سامنے اپنی شکایات کا دفتر کھول بیٹھتے تھے اور اپنی ناواقفیت کی وجہ سے یا خود اپنے لئے حصول جاہ کی غرض سے کچھ لوگ ان کے ساتھ مل جاتے۔ہوتے ہوتے یہ گروہ تعداد میں زیادہ ہونے لگا اور اس کی ایک بڑی تعداد ہو گئی۔(مضمونا طبری جلد نمبر۵ صفحه ۲۸۵۰٬۲۸۴۹ مطبوعہ بیروت) جب کوئی فتنہ پیدا ہونا ہوتا ہے تو اس کے اسباب بھی غیر معمولی طور پر جمع ہونے لگتے ہیں۔ادھر تو بعض حاسد طبائع میں صحابہ کے خلاف جوش پیدا ہونا شروع ہوا۔ادھر وہ اسلامی جوش جو ابتداء ہر ایک مذہب تبدیل کرنے والے کے دل میں ہوتا ہے ان نو مسلموں کے دلوں سے کم ہونے لگا۔جن کو نہ رسول کریم ﷺ کی صحبت ملی تھی اور نہ آپ کے صحبت یافتہ لوگوں کے پاس زیادہ بیٹھنے کا موقع ملا تھا بلکہ اسلام کے قبول کرتے ہی انہوں نے خیال کر لیا تھا کہ وہ سب کچھ سیکھ گئے ہیں۔جوش اسلام کے کم ہوتے ہی وہ تصرف جو ان کے دلوں پر اسلام کو تھا کم ہو گیا۔اور وہ پھر ان معاصی میں خوشی محسوس کرنے لگے جس میں وہ اسلام لانے سے پہلے مبتلاء تھے۔ان کے جرائم پر ان کو سزا ملی تو بجائے اصلاح کے سزا دینے والوں کی تخریب کرنے کے درپے ہوئے۔اور آخر اتحاد اسلامی میں ایک بہت بڑا رخنہ پیدا کرنے کا موجب ثابت ہوئے۔ان لوگوں کا مرکز تو کوفہ میں تھا۔مگر سب سے زیادہ تعجب کی بات یہ ہے کہ خود مدینہ منورہ میں ایک ایسا واقعہ ہوا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت بعض لوگ اسلام سے ایسے ہی نا واقف تھے جیسے کہ آج کل بعض نهایت تاریک گوشوں میں رہنے والے جاہل لوگ۔حمران ابن ابان ایک شخص تھا جس نے ایک عورت سے اس کی عدت کے دوران میں ہی نکاح کر لیا۔جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو اس کا علم ہوا تو آپ اس پر ناراض ہوئے اور اس عورت کو اس سے جدا کر دیا اور اس کے علاوہ اس کو مدینہ سے جلا وطن کر کے بصرہ بھیج دیا۔(طبری جلد نمبر 4 صفحہ نمبر ۲۹۲۳ مطبوعہ بیروت) اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ کس طرح بعض لوگ صرف اسلام کو قبول کر کے اپنے آپ کو عالم اسلام خیال کرنے لگے تھے اور زیادہ تحقیق کی ضرورت نہ سمجھتے تھے۔یا یہ کہ مختلف اباحتی خیالات کے ماتحت شریعت پر عمل کرنا ایک فعل عبث خیال کرتے تھے۔یہ ایک منفرد واقعہ ہے اور غالبا اس شخص کے سوا مدینہ میں جو مرکز اسلام تھا کوئی ایسا ناواقف آدمی نہ تھا۔مگر دوسرے شہروں میں بعض لوگ معاصی میں ترقی کر رہے تھے۔چنانچہ کوفہ کے حالات سے معلوم ہوتا ہے کہ وہاں نوجوانوں کی ایک جماعت ڈاکہ