انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 262 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 262

العلوم جلد ۴ اسلام میں اختلافات کا آغاز حضرت عمرؓ کے اس کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے زمانہ میں ہی لوگوں میں صحابہ کے خلاف یہ خیالات موجزن دیکھتے تھے کہ ان کو حصہ زیادہ ملتا ہے۔اس لئے وہ سوائے چند ایسے صحابہ کے جن کے بغیر لشکروں کا کام نہیں چل سکتا تھا باقی صحابہ کو جہاد کے لئے نکلنے ہی نہیں دیتے تھے تاکہ دو ہرے حصے ملنے سے لوگوں کو ابتلاء نہ آوے اور وہ یہ محسوس کرتے تھے کہ اسلام ترقی کے اعلیٰ نقطہ پر پہنچ گیا ہے اور اب اس کے بعد زوال کا ہی خطرہ ہو سکتا ہے نہ ترقی کی امید۔اس قدر بیان کر چکنے کے بعد اب میں واقعات کا وہ سلسلہ بیان کرتا ہوں جس سے حضرت عثمان کے وقت میں جو کچھ اختلافات ہوئے ان کی حقیقت ظاہر ہو جاتی ہے۔میں نے بیان کیا تھا کہ حضرت عثمان کی شروع خلافت میں چھ سال تک ہمیں کوئی فساد نظر نہیں آتا۔بلکہ معلوم ہوتا ہے کہ لوگ عام طور پر آپ سے خوش تھے۔(طبری جلد نمبرہ صفحہ ۲۸۴۰ مطبوعہ بیروت) بلکہ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس عرصہ میں وہ حضرت عمرؓ سے بھی زیادہ لوگوں کو محبوب تھے۔صرف محبوب ہی نہ تھے بلکہ لوگوں کے دلوں میں آپ کا رعب بھی تھا۔جیسا کہ اس وقت کا شاعر اس امر کی شعروں میں شہادت دیتا ہے۔اور کہتا ہے کہ اے فاسقوا عثمان کی حکومت میں لوگوں کا مال لوٹ کر نہ کھاؤ کیونکہ ابن عفان وہ ہے جس کا تجربہ تم لوگ کر چکے ہو۔وہ لٹیروں کو قرآن کے احکام کے ماتحت قتل کرتا ہے اور ہمیشہ سے اس قرآن کریم کے احکام کی حفاظت کرنے والا اور لوگوں کے اعضاء و جوارح پر اس کے احکام جاری کرنے والا ہے۔(طبری جلد ۵ صفحه ۲۸۴۱ مطبوعہ بیروت) لیکن چھ سال کے بعد ساتویں سال ہمیں ایک تحریک نظر آتی ہے اور وہ تحریک حضرت عثمان کے خلاف نہیں بلکہ یا تو صحابہ کے خلاف ہے یا بعض گورنروں کے خلاف۔چنانچہ طبری بیان کرتا ہے کہ لوگوں کے حقوق کا حضرت عثمان پورا خیال رکھتے تھے۔مگر وہ لوگ جن کو اسلام میں سبقت اور قدامت حاصل نہ تھی وہ سابقین اور قدیم مسلمانوں کے برابر نہ تو مجالس میں عزت پاتے اور نہ حکومت میں ان کو ان کے برابر حصہ ملتا اور نہ مال میں ان کے برابر ان کا حق ہو تا تھا۔اس پر کچھ مدت کے بعد بعض لوگ اس تفضیل پر گرفت کرنے لگے اور اسے ظلم قرار دینے لگے۔مگر یہ لوگ عامۃ المسلمین سے ڈرتے بھی تھے اور اس خوف سے کہ لوگ ان کی مخالفت کریں گے اپنے خیالات کو ظاہر نہ کرتے تھے۔بلکہ انہوں نے یہ طریق اختیار کیا ہوا تھا۔کہ خفیہ خفیہ صحابہ کے خلاف لوگوں میں جوش پھیلاتے