انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 255 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 255

۲۵۵ اسلام میں اختلافات کا آغاز زمام انتظام جن لوگوں کے ہاتھوں میں ہوتی ہے ان کا فرض ہوتا ہے کہ امور دینیہ میں وہ لوگوں کو راستہ سے ادھر ادھر نہ ہونے دیں۔اور بجائے اس کے کہ وہ لوگوں کے خیالات کی ترجمانی کریں ان پر واجب ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کے خیالات کو اس سانچہ میں ڈھالیں جو کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے اس زمانہ کی ضروریات کے مطابق تیار ہوا ہے۔غرض اسلام کی حقیقت کو نہ سمجھنے کی وجہ سے یہ خلافت اسلامیہ ایک مذہبی انتظام تھا اعتراضات ان لوگوں کے دلوں میں پیدا ہوتے تھے۔وہ نہ سوچتے تھے کہ خلافت اسلامیہ کوئی دنیاوی حکومت نہ تھی نہ صحابہ عام امرائے دولت۔بلکہ خلافت اسلامیہ ایک مذہبی انتظام تھا اور قرآن کریم کے خاص احکام مندرجہ سورۂ نور کے مطابق قائم کیا گیا تھا۔اور صحابہ وہ ارکان دین تھے کہ جن کی اتباع روحانی مدارج کے حصول کے لئے خدا تعالیٰ نے فرض کی تھی۔صحابہ نے اپنے کاروبار کو ترک کر کے ہر قسم کی مسکنت اور غربت کو اختیار کرکے اپنی جانوں کو خطرہ میں ڈال کر اپنے عزیز و اقرباء کی صحبت و محبت کو چھوڑ کر اپنے وطنوں کو خیر باد کہہ کر اپنے خیالات و جذبات کو قربان کر کے آنحضرت کی صحبت و محبت کو اختیار کیا تھا اور بعض نے قریباً ایک چوتھائی صدی آپ کی شاگردی۔اختیار کر کے اسلام کو سبقاً سبقاً پڑھا تھا۔اور اس پر عمل کر کے اس کا عملی پہلو مضبوط کیا تھا۔وہ جانتے تھے کہ اسلام سے کیا مطلب ہے۔اس کی کیا غرض ہے۔اس کی کیا حقیقت ہے۔اس کی تعلیم پر کس طرح عمل کرنا چاہئے۔اور اس پر عمل کر کے کیا فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔پس وہی کسی دنیاوی حکومت کے بادشاہ اور اس کے ارکان نہ تھے۔وہ سب سے آخری دین اور خاتم النبین کی لائی ہوئی شریعت کے معلم تھے۔اور ان پر فرض کیا گیا تھا کہ اپنے عمل سے اپنے قول سے اپنی حرکات سے اپنی سکنات سے اسلام کی ترجمانی کریں اور اس کی تعلیم لوگوں کی کے دلوں میں نقش کریں اور ان کے جوارح پر اس کو جاری کریں۔وہ استبداد کے حامی نہ تھے بلکہ شریعت غراء کے حامی تھے۔وہ دنیا سے متنفر تھے۔اور اگر ان کا بس ہو تا تو دنیا کو ترک کر کے گوشہ ہائے تنہائی میں جا بیٹھتے اور ذکر خدا سے اپنے دلوں کو راحت پہنچاتے۔مگر وہ اس ذمہ داری سے مجبور تھے جس کا بوجھ خدا اور اس کے رسول ﷺ نے ان کے کندھوں پر رکھا تھا۔۳۔پس وہ جو کچھ کرتے تھے اپنی خواہش سے نہیں کرتے تھے بلکہ خدا تعالٰی کے حکم کے ماتحت اور اس کے رسول کی ہدایات کے مطابق کرتے تھے۔اور ان پر حسد کرنا یا بد گمانی کرنا