انوارالعلوم (جلد 4) — Page 212
العلوم جلد ۲۱۲ حقیقت الاحمر۔آپ نے ان کی تاویل کی۔یہی صورت آنحضرت کے ساتھ پیش آئی آپ کو خدا تعالیٰ نے ابتداء وحی میں ہی فرما دیا تھا کہ اِنَّا اَرْسَلْنَا إِلَيْكُمْ رَسُولاً شَاهِدًا عَلَيْكُمْ كَمَا أَرْسَلْنَا إِلَى فِرْعَوْنَ رَسُولاً (الزل (۱۶) یعنی یہ رسول وہی رسول ہے جس کی نسبت لکھا گیا تھا کہ وہ مثیل موسی" ہو گا اور جس نبی نے مثیل موسی ہو کر آنا تھا اس کی نسبت توریت و انجیل دونوں کے متحدہ بیان اور بنی اسرائیل کی شہادت سے ثابت ہے کہ اس نے سب نبیوں سے افضل ہونا تھا۔کیونکہ اس کی تعلیم کی نسبت لکھا تھا کہ وہ ہمیشہ رہے گی اور سب صداقتوں پر حاوی ہوگی۔مگر باوجود اس کے کہ صاف طور پر آپ کو نبی کہا گیا آپ نے ایک مدت دراز تک اس دعوئی کی تاویل کی اور فرماتے رہے کہ موسیٰ پر مجھے ترجیح نہ دو اور یونس پر مجھے ترجیح نہ دو (بخاری کتاب الانبياء باب قول الله عز وجل وان يونس لمن المرسلين الى قوله و هو ملیم اور یہ آپ نے صرف اس واسطے کیا کہ اس وقت میں عام طور پر یہ خیال پھیلا ہوا تھا کہ تمام نبیوں سے یہ دونوں نبی افضل ہیں چنانچہ موسیٰ کی نسبت ان کے اس عقیدہ کی وجہ یہ تھی کہ حضرت موسیٰ ان کے شارع نبی تھے اور گل نبی جو بنی اسرائیل میں آئے ان کے خلفاء کی حیثیت رکھتے تھے۔حضرت یونس کی نسبت ان کے اس خیال کی وجہ بھی ظاہر ہے۔کیونکہ صرف حضرت یونس ہی ایک ایسے نبی گزرے ہیں کہ جن کو ان کی ساری کی ساری قوم نے مان لیا اور یہ خیال معلوم ہوتا ہے کہ پرانا پھیلا ہوا تھا کیونکہ حضرت مسیح ناصری اپنے مخالفوں سے کہتے ہیں کہ دیکھو یہاں ایک موجود ہے جو یونس سے بڑھ کر ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل میں یونس سمی خاص عزت ہے۔پس آنحضرت ﷺ نے لوگوں کے اس خیال کے ماتحت باوجود آپ کو مثیل موسی“ کا خطاب ملنے کے اپنے آپ کو موسیٰ علیہ السلام اور یونس علیہ السلام پر فضیلت دینے سے منع کیا۔مگر بعد میں وفات سے پانچ چھ سال پہلے کے قریب آکر الٹ کہا۔اور صاف لفظوں میں سب دنیا کی طرف اپنے مبعوث ہونے اور سب نبیوں سے افضل ہونے کا ذکر فرمایا۔حضرت موسیٰ کا تو خاص طور پر نام لے کر فرمایا کہ لو كَانَ مُوسَى وَعِيسَى حَيَّيْنِ مَا وَسِعَهُمَا إِلَّا اتِّباعی پس اس امر میں حضرت مسیح موعود کو آنحضرت ا سے کامل مشابہت ہے اور اسی طرح اور کئی امور ہیں کہ جن میں نبی کریم ﷺ نے احتیاط سے کام لیا ہے۔، آپ کا یہ فرمانا کہ میرے اس عقیدہ کے نتیجہ میں مولوی عمرالدین صاحب شملوی اور بعض