انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 211 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 211

حقیقت الام کہ آپ مہربانی فرما کر اپنے ہم خیالوں میں سے ان لوگوں کی ایک فہرست شائع کر دیں کہ جنہوں نے ہماری کتب کا مطالعہ کیا ہو۔اور ہر ایک کے نام کے ساتھ لکھ دیں کہ اس نے فلاں فلاں کتاب یا رسالہ تمہارا پڑھا ہے اور میں اپنے مریدوں میں سے ایسے لوگوں کی ایک فہرست شائع کرادوں گا جنہوں نے آپ کی کتب کا مطالعہ کیا ہے۔اور ان کے نام کے آگے ان کتب و رسالہ جات کی فہرست جو انہوں نے آپ کی طرف سے شائع ہونے والے لٹریچر میں سے پڑھے ہوں درج کر دوں گا۔اس سے خود دنیا کو معلوم ہو جائے گا کہ کون لوگ بے تعصبی سے دوسرے کی کتب کا مطالعہ کرتے ہیں۔آپ تحریر فرماتے ہیں کہ اگر بارہ سال تک حضرت مسیح موعود اپنے دعوئی کو خود نہ سمجھ سکے تو پھر اور کوئی آپ کے دعوی کو کس طرح سمجھ سکے گا۔اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود پر کبھی بھی کوئی وقت نہیں آیا کہ آپ دعوئی کو نہ سمجھ سکے ہوں۔آپ شروع سے آخر تک اس مقام کو سمجھتے رہے ہیں جس پر اللہ تعالیٰ نے آپ کو کھڑا کیا ہے۔ہاں صرف اس دعوئی کے نام میں آپ احتیاط کرتے رہے ہیں۔یعنی آیا اس کا نام نبوت رکھا جاوے یا محد ثیت۔اور جب تک اللہ تعالٰی کی متواتر وحی نے اس بات کی صراحت نہ کی آپ اس کا نام محد ثیت یا جزوی نبوت وغیرہ رکھتے رہے ہیں۔لیکن بعد صراحت کے آپ اس امر پر قائم نہ رہے اور آپ نے اس مقام کا نام نبوت رکھ دیا۔اور یہی بات ہے جو حضرت مسیح موعود خود حقیقتہ الوحی میں تحریر فرماتے ہیں۔اور اس بات میں آپ منفرد نہیں۔پہلے انبیاء کے ساتھ بھی یہ معاملہ پیش آیا ہے۔چنانچہ خود آنحضرت ا جو سید ولد آدم تھے ایک عرصہ دراز تک حضرت موسیٰ اور حضرت یونس پر اپنے آپ کو فضیلت دینے سے روکتے رہے۔حالانکہ بعد میں آپ نے فرمایا کہ الَوْ كَانَ مُوسَى وَعِيْسَ حَتَيْنِ مَا وَسِعَهُمَا إِلَّا اتِّباعى اليواقيت والجواهر جلد ۲ صفحه ۲۳ مطبوعه مصر (۱۳۲ھ) اور فرمایا اَنَا سَيدُ وُلد أدم ( ترتدى ابواب المناقب باب ماجاء في فضل النبي صلى الله علیه وسلم) پس اگر آپ ذرا بھی تدبر سے کام لیں تو ان دو نبیوں پر اپنے آپ کو فضیلت نہ دینے کا بھی وہی باعث تھا جو حضرت مسیح موعود کے لئے اپنے مقام کا نام نبوت نہ رکھنے کا باعث تو ہوا اور وہ لوگوں کے رائج الوقت خیالات کا حتی الوسع احترام کرنا اور دین کے معاملہ میں جلد بازی سے کام نہ لینا تھا۔اور یہی وہ صفت ہے جو متقی اور غیر متقی میں تمیز کر دیتی ہے۔یہ عجیب بات ہے کہ جس طرح حضرت مسیح موعود کی نسبت نبی اور رسول کے الفاظ استعمال کئے گئے تھے